گلگت بلتستان کا مقدمہ۔۔۔ اب فیصلوں کا وقت ہے

وزیراعظم پاکستان سے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حاجی امجد حسین ایڈووکیٹ کی حالیہ ملاقات ایک معمول کی سرکاری ملاقات نہیں بلکہ ایسے خطے کے مستقبل سے جڑی ہوئی تھی جو جغرافیائی دفاعی آبی اور ماحولیاتی لحاظ سے پاکستان کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے سوال یہ نہیں کہ ملاقات کتنی کامیاب رہی بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس ملاقات کے بعد گلگت بلتستان کے مسائل کے حل کی جانب عملی پیش رفت ہوگی یا یہ بھی ماضی کی متعدد ملاقاتوں اور وعدوں کی طرح فائلوں تک محدود رہ جائے گی؟

وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کے سامنے جن نکات کو اٹھایا وہ کسی سیاسی جماعت کے مطالبات نہیں بلکہ زمینی حقائق ہیں۔ تقریباً 28 ہزار مربع میل پر پھیلے اس خطے میں 8 ہزار گلیشیئرز سینکڑوں قدرتی جھیلیں آبی ذخائر دشوار گزار پہاڑی علاقے اور طویل سرحدیں موجود ہیں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے گلگت بلتستان کو دنیا کے حساس ترین علاقوں میں شامل کر دیا ہے۔ گلیشیئرز کے پگھلنے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نہ صرف انفراسٹرکچر بلکہ مقامی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ایسے خطے کے لیے اگر سالانہ ترقیاتی بجٹ صرف 23 ارب روپے رکھا جائے تو یہ وسائل اور ضروریات کے درمیان واضح عدم توازن کو ظاہر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سڑکوں، پلوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، آب نوشی اور بجلی کے بیشتر منصوبے برسوں تک نامکمل رہتے ہیں تاخیر کے باعث منصوبوں کی لاگت بڑھتی ہے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور عوام بنیادی سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ گلگت بلتستان پاکستان کو پانی، سیاحت معدنیات اور دفاعی اہمیت کے حوالے سے بے شمار فوائد فراہم کرتا ہے لیکن وسائل کی تقسیم میں اسے وہ مقام حاصل نہیں جو اس کا حق بنتا ہے قومی مالیاتی کمیشن (NFC) میں نمائندگی اور مناسب حصہ محض ایک سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ مالی انصاف کا تقاضا ہے جب تک وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوگی ترقی کے دعوے زمینی حقیقت نہیں بن سکتے۔

اسی طرح گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا معاملہ بھی کئی دہائیوں سے زیر التوا ہے یہاں کے عوام پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کا عملی ثبوت ہر مشکل وقت میں دیتے آئے ہیں مگر انہیں آج بھی مکمل آئینی حقوق حاصل نہیں عبوری صوبائی حیثیت یا کوئی بھی ایسا آئینی حل جو عوام کو بااختیار بنائے اب مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
وزیراعظم کی جانب سے خصوصی کمیٹی کی تشکیل یقیناً ایک مثبت قدم ہے لیکن ماضی کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ کمیٹیاں اس وقت مؤثر ثابت ہوتی ہیں جب ان کی سفارشات پر مقررہ مدت میں عملدرآمد بھی ہو گلگت بلتستان کے عوام اب نئی کمیٹیوں سے زیادہ عملی فیصلوں واضح ٹائم لائن اور وسائل کی فراہمی کے منتظر ہیں۔

وفاقی حکومت کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ گلگت بلتستان پر خرچ ہونے والی رقم اخراجات نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ اس خطے میں انفراسٹرکچر تعلیم صحت توانائی سیاحت اور ماحولیاتی تحفظ پر سرمایہ کاری نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پوری قومی معیشت کو فائدہ پہنچائے گی۔

وزیراعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے وزیراعظم کے سامنے گلگت بلتستان کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کر دیا ہے اب ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مقدمے کو محض ہمدردی سے نہ سنے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ثابت کرے کہ گلگت بلتستان واقعی قومی ترجیحات میں شامل ہے اگر اس ملاقات کے نتیجے میں ترقیاتی بجٹ میں اضافہ این ایف سی میں مناسب حصہ آئینی پیش رفت اور بنیادی منصوبوں کی بروقت تکمیل ممکن ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ پاکستان کی ریاستی پالیسی کے لیے بھی ایک تاریخی کامیابی ہوگی۔ بصورت دیگر یہ ملاقات بھی عوام کی توقعات کی طویل فہرست میں ایک اور اضافہ بن کر رہ جائے گی

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *