گلگت بلتستان میں سیلابی تباہ کاریاں۔۔

گلگت بلتستان قدرتی حسن اب موسمیاتی تبدیلی کے باعث ایک بڑے خطرے میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے حالیہ شدید بارشوں فلیش فلڈ لینڈ سلائیڈنگ اور دریائی کٹاؤ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر منصوبہ بندی نہ کی گئی تو ہر آنے والا مون سون گزشتہ برس سے زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی تازہ رپورٹ کے مطابق 60 سے زائد قدرتی آفات کے واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں ان واقعات کے نتیجے میں 184 مکانات متاثر ہوئے جن میں 49 مکمل طور پر تباہ جبکہ 135 کو جزوی نقصان پہنچا۔ 9 پل بہہ گئے تقریباً آٹھ کلومیٹر سڑکیں متاثر ہوئیں اور 68 مویشی ہلاک ہوئے یہ اعداد و شمار صرف نقصان کی ایک تصویر پیش کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پیچھے سینکڑوں خاندانوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی روزگار اور مستقبل بھی متاثر ہوا ہے۔

دیامر، غذر، گلگت، استور، اسکردو، ہنزہ، نگر اور گانچھے جیسے اضلاع میں سیلابی ریلوں نے رابطہ سڑکیں منقطع کر دیں کئی دیہات دنیا سے کٹ گئے سیاح پھنس گئے اور متاثرین تک امداد پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اگرچہ ضلعی انتظامیہ جی بی ڈی ایم اے پاک فوج۔ایف سی این اے ریسکیو 1122 اور مقامی رضاکاروں نے بروقت کارروائیاں کرتے ہوئے قیمتی جانوں کو بچانے اور متاثرین کی مدد کے لیے قابلِ تحسین کردار ادا کیا لیکن ہر سال ایک جیسے نقصانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ محض ہنگامی امداد کافی نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب ایک سائنسی بحث نہیں بلکہ زمینی حقیقت بن چکی ہے۔ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے غیر معمولی بارشوں اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اگر ان خطرات کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ نہ لیا گیا تو مستقبل میں نقصانات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت گلگت بلتستان اور وفاقی حکومت مشترکہ طور پر ایک جامع کلائمیٹ ریزیلینس پروگرام تشکیل دیں خطرناک علاقوں کی جدید نقشہ سازی مؤثر ارلی وارننگ سسٹم دریاؤں اور ندی نالوں کی مسلسل نگرانی حفاظتی پشتوں کی تعمیر مضبوط پلوں اور سڑکوں کی منصوبہ بندی اور پہاڑی علاقوں میں محفوظ رہائشی بستیوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے اس کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کو آفات سے نمٹنے کی تربیت دینا اور ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کو جدید مشینری اور وسائل فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے۔

متاثرہ خاندانوں کی بحالی کو بھی صرف راشن اور خیموں تک محدود نہیں رہنا چاہیے جن افراد کے گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں انہیں مالی معاونت، متبادل رہائش زرعی و تجارتی سرگرمیوں کی بحالی اور بچوں کی تعلیم کے تسلسل کے لیے خصوصی پیکج فراہم کیے جائیں تاکہ وہ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔

گلگت بلتستان پاکستان کی سیاحت ماحولیات اور آبی سلامتی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر اس خطے کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ بنانے کے لیے آج مؤثر سرمایہ کاری نہ کی گئی تو اس کے نتائج صرف گلگت بلتستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا ملک اس کے اثرات محسوس کرے گا۔

حالیہ سیلابی تباہ کاریاں صرف ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہیں کہ ترقیاتی منصوبہ بندی ماحولیاتی تحفظ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو نئی سوچ اور جدید تقاضوں کے مطابق استوار کرنا ہوگا یہی وہ راستہ ہے جس سے انسانی جانوں، قومی وسائل اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *