مالی خودمختاری اور پائیدار ترقی کی تشنہ تعبیر

پاکستان کی جغرافیائی دفاعی معاشی اور ماحولیاتی سلامتی میں گلگت بلتستان کا مقام ایک بنیادی ستون کی مانند ہے دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلے ہزاروں گلیشیئرز آبی ذخائر بے پناہ معدنیات اور عالمی سطح پر پاکستان کا شاندار پہچان بننے والے سیاحتی مقامات اسی خطے کی آغوش میں ہیں اس کے باوجود یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مالی وسائل کی مستقل کمی، آئینی پیچیدگیوں اور وفاق پر حد سے زیادہ انحصار نے گلگت بلتستان کی ترقی کی رفتار کو مسلسل سست رکھا ہے ہر نئے مالی سال کے آغاز پر گلگت بلتستان کے عوام کے ذہنوں میں یہی بڑا سوال ابھرتا ہے کہ آخر کب اس خطے کو اس کے جائز اور باوقار مالی وسائل میسر آئیں گے؟
گزشتہ کئی سالوں سے خطے کو وفاق کی جانب سے فنڈز کی بروقت عدم فراہمی ترقیاتی بجٹ کی کٹوتی اور سابقہ واجبات کی ادائیگی میں تاخیر جیسے سنجیدہ چیلنجز کا سامنا ہے جب بھی وفاقی سطح پر مالی بحران آتا ہے اس کی سب سے پہلی اور شدید ضرب گلگت بلتستان کے ترقیاتی بجٹ پر پڑتی ہے اس غیر یقینی صورتحال کا نتیجہ یہ ہے کہ اربوں روپے کے جاری ترقیاتی منصوبے التوا کا شکار ہو جاتے ہیں جس سے نہ صرف لاگت میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے بلکہ صحت تعلیم بجلی مواصلات اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات سے عوام محروم رہ جاتے ہیں۔ مزید برآں حالیہ سالوں میں موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) گلیشیئر جھیل پھٹنے کے واقعات (GLOF) اور غیر معمولی سیلابوں نے خطے کی خستہ حال انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے جس نے محدود مقامی وسائل پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔
ان تشویشناک حالات کے درمیان پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے گلگت بلتستان کے لیے خصوصی مالیاتی پیکج کے حصول اور وفاقی حکومت کے ساتھ اعلیٰ سطح کے مذاکرات کو ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اگر ان مذاکرات کے نتیجے میں زیر التوا فنڈز کی فوری واگزاری اور اضافی وفاقی وسائل کا حصول ممکن ہو پاتا ہے تو اس سے نہ صرف رکے ہوئے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز ہو گی بلکہ عوام کو بھی روزمرہ زندگی میں بڑی راحت ملے گی۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے مسائل محض فنڈز کی عارضی عدم فراہمی تک محدود نہیں۔ بجلی کی گھنٹوں طویل لوڈشیڈنگ ہسپتالوں میں ادویات و جدید آلات کی کمی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کا فقدان نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مواصلاتی و زرعی نظام کی ابتری ایسے بنیادی چیلنجز ہیں جو کسی وقتی "پیکج” کے بجائے ایک دائمی اور جامع حکمت عملی کا تقاضا کرتے ہیں۔
اس پورے بحران کی اصل جڑ این ایف سی (National Finance Commission) ایوارڈ میں گلگت بلتستان کا براہ راست حصہ نہ ہونا ہے۔ چونکہ خطے کا مالیاتی نظام مکمل طور پر وفاقی گرانٹس اور خیر سگالی پر منحصر ہے اس لیے وفاق میں ذرا سی سیاسی یا معاشی تبدیلی یہاں کے انتظامی اور ترقیاتی پہیے کو جام کر دیتی ہے اب وقت آ گیا ہے کہ گلگت بلتستان کو این ایف سی طرز کے ایک مضبوط مالیاتی میکانزم کا حصہ بنایا جائے۔ خطے کو مالی خودمختاری دی جائے اور یہاں کے پن بجلی معدنیات سیاحت اور سرحد پار تجارت سے حاصل ہونے والے محصولات میں اس کا جائز اور مؤثر حصہ تسلیم کیا جائے۔
اگر وفاقی حکومت واقعی گلگت بلتستان کو قومی ترقی کا بنیادی ستون سمجھتی ہے تو اسے عارضی مالیاتی انتظام کے روایتی رویے کو ترک کرنا ہوگا۔ وفاقی حکومت سیاسی قیادت اور ریاست کے تمام متعلقہ اداروں کو مل کر ایسے آئینی و انتظامی فیصلوں کی طرف بڑھنا ہوگا جو گلگت بلتستان کو خود کفالت کی راہ پر گامزن کریں اگر آج اس خطے کے مالی آئینی اور بنیادی مسائل کا مستقل اور عادلانہ حل نہ نکالا گیا تو مالی بحران اور ترقیاتی تعطل کے باعث نہ صرف عوامی مشکلات میں اضافہ ہوگا بلکہ اس اہم سرحدی خطے میں احساسِ محرومی کی خلیج بھی مزید وسیع ہو
سکتی ہے….

🔔

Daily Tarjuman Notifications

تازہ ترین خبریں اور اہم اپڈیٹس فوراً حاصل کریں۔