خاموش چیخیں، عارضی ماتم اور اجڑتی گودیں: ہمارے بچے کب محفوظ ہوں گے؟

ہری پور کی پانچ سالہ معصوم آیت نور کی المناک موت صرف ایک دل دہلا دینے والی خبر نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر لگی ایک ایسی ضرب ہے جس نے ایک بار پھر پورے معاشرے کے سامنے آئینہ رکھ دیا ہے۔ گڑیا سے کھیلنے اور ماں کی گود میں تتلیوں کے خواب دیکھنے کی عمر میں ایک بچی کا یوں ظالمانہ طریقے سے چھن جانا، کسی ایک خاندان کا ذاتی دکھ نہیں بلکہ اس قوم کی اخلاقی شکست ہے۔

عارضی ہنگامہ اور اجتماعی بھول

ہماری حسِ ہمدردی کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ ہم ہر نئے حادثے پر صرف چند دنوں کے لیے جاگتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر غصے کی لہر اٹھتی ہے، میڈیا پر جذباتی بحثیں ہوتی ہیں، سخت سزاؤں کے مطالبات کیے جاتے ہیں اور پھر… سب کچھ آہستہ آہستہ خاموش ہو جاتا ہے۔ زینب سے لے کر آیت نور تک، نام بدلتے رہتے ہیں لیکن رویوں کا سکرپٹ وہی رہتا ہے۔ قوم کے ماتم کی ایک میعاد ہوتی ہے، لیکن جس ماں کی گود ویران ہو جائے اور جس گھر کی رونقیں سلب ہو جائیں، وہاں کا سناٹا عمر بھر ختم نہیں ہوتا۔

قوانین کی سختی یا نظام کی ناکامی؟

یہ سوال اب محض ایک جذباتی نعرہ نہیں رہا کہ سخت قوانین کے باوجود یہ درندگی کیوں نہیں رک رہی؟ ہمارے پاس کاغذوں میں قوانین بھی موجود ہیں اور سخت سزاؤں کا تصور بھی۔ مگر کیا صرف ایک واقعے کے بعد مجرم کو تختہ دار پر لٹکا دینا ہی اس مسئلے کا حل ہے؟ جب تک ہم اس سوچ، ان حالات اور اس مجرمانہ ذہنیت کی جڑوں تک نہیں پہنچیں گے جو کسی انسان کو اس حد تک گرا دیتی ہے، تب تک یہ سلسلہ کبھی تھم نہیں سکتا۔

شفاف تفتیش اور حقائق کی تلاش

آیت نور کے کیس کے بعد سوشل میڈیا پر طرح طرح کے قیاس آرائیاں سامنے آئیں، کبھی ڈارک ویب تو کبھی منظم نیٹ ورکس کی بات کی گئی۔ اگرچہ قانونی اداروں نے ان کی تصدیق نہیں کی، لیکن یہ قیاس آرائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام کا موجودہ تفتیشی نظام سے اعتماد اٹھ رہا ہے۔ ایسے ہر حساس معاملے میں سائنسی بنیادوں پر غیر جانبدار اور شفاف تفتیش کر کے حقائق سامنے لانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ افواہوں کا سدِ باب صرف اور صرف سچائی کو عام کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔

مسئلے کی جڑ تک رسائی

ہمیں صرف ایک جرم کے بعد قاتل کو تلاش کرنے تک محدود نہیں رہنا، بلکہ یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہمارے گرد و پیش میں ایسی بھیانک ذہنیت کیسے پروان چڑھ رہی ہے۔ کون سے معاشرتی عوامل، نفسیاتی بیماریاں یا نظام کی خامی ایک مجرم کو جنم دیتی ہیں؟ اگر ہم ہر بار صرف ایک مجرم کی فائل بند کر کے سکون کی سانس لیتے رہے، تو ہم آنے والے کل میں کسی اور معصوم کو اس درندگی کا شکار ہونے سے نہیں بچا سکیں گے۔

آیت نور تو چلی گئی، لیکن اس کی خاموشی ہمارے نظامِ عدل، ہمارے طرزِ حکمرانی اور ہماری انسانیت سے ایک تلخ سوال پوچھ رہی ہے: کیا ہم اپنے بچوں کو ایک محفوظ معاشرہ دینے کے لیے تیار ہیں، یا پھر ہم اگلی لاش اور اگلے ماتم کا انتظار کر رہے ہیں؟

🔔

Daily Tarjuman Notifications

تازہ ترین خبریں اور اہم اپڈیٹس فوراً حاصل کریں۔