نیل کنٹھ اور نیم کے پتے میں شیخ ایاز کی ایک نظم قرضِ منصور میں ہے کہ:
جی میں آئی ہوئی ہر بات کیا کرتے تھے
تختہ دار سے ہم لوگ کہاں ڈرتے تھے
نہ خروج کے ستون مستقل کانپ جاتے تھے
اپنا ایک دل تھا تل کی طرح…
ایک دن ایسا ضرور آئے گا
جب یہ مستقبل کی گراں فاصلے سن کر
ہم سے گر جائیں گی ناگاہ سرِ مقتل پر
اور ایک رقصِ طرب ہم برپا کر دیں گے
سختِ قرضِ منصور کو یک لخت ادا کر دیں گے
شیخ ایاز کی نیل کنٹھ اور نیم کے پتے والی شاعری کے فلپ میں المجید ریاض نے کیا خوب لکھا ہے کہ نیل کنٹھ و رنگ برنگا پرندہ ہے، جس نے زہر کا گھونٹ بھرا ہے جو اس کے گلے پر نیلی دھاری بن گیا ہے لیکن وہ نیم کے درخت پر پھر بھی نغمہ سرا رہتا ہے۔ مجید ریاض نے شیخ ایاز کو نیل کنٹھ کہا ہے جو نیم کے درخت پر بیٹھ کر ناانصافیوں کے خلاف ایک مندومند احتجاج بن کر سامنے آیا ہے اور ان کی شاعری میں سو رنگ ہیں جن میں کہیں گہرا دکھ، کہیں بھڑکتا شعلہ، کہیں کھلکھلاہٹ تو کہیں محبت و شفقت کے پھول موجود ہیں۔ یہ صرف شیخ ایاز تک محدود نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو بھی وہی نیل کنٹھ ہیں جو اس ملک کی شبِ گزیدہ سحر کے مہیب سائے تلے کھیلے ہوئے طبقات کا دکھ اور ظلم و جبر کا ہر اپاہج گرون میں جذب کرتے رہے مگر دار و رسن اور گرز و آہن کی نذر ہو گئے مگر پھر بھی نعرہءِ حق بلند کیا۔ یہ سب باتیں میرے ذہن میں اس لیے عود کر آئی ہیں کہ ان دنوں ایک خاص کتاب زیرِ مطالعہ رہی۔ یہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کی جانب سے حال ہی میں شائع کردہ کتاب "آنسوؤں کی خوشبو” ہے جس کے مترجم ہمارے دوست فخر عباس ہیں۔ کتاب کا اصل نام The fragrance of tears ہے اور یہ برطانیہ کی ممتاز محقق، مؤرخ، مصنفہ اور صحافی وکٹوریا سکوفیلڈ کی کتاب ہے اور انہی کی اجازت سے فخر عباس نے اسے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔
فخر عباس کے فن و شخصیت پر جسارت بعد میں، پہلے وکٹوریا سکوفیلڈ کا تذکرہ جس کی اس شاندار کتاب کو فخر عباس نے ہم سب اردو دان طبقے تک پہنچایا ہے۔ وکٹوریا سکوفیلڈ برطانیہ کی ممتاز محقق، مصنفہ اور صحافی اور کشمیر کی تاریخ کی ماہر ہیں۔ ان کی کئی کتابیں مشہور ہوئی ہیں جن میں مسئلہ کشمیر سے متعلق کتب بہت اہم ہیں۔ میرے پاس ان کی کتابیں Kashmir in conflict اور Kashmir in the crossfire کافی عرصہ پہلے سے موجود تھیں اور مسئلہ کشمیر سے متعلق موضوع پر ان کی گرفت اور تحقیق بہت شاندار ہے۔ ان کی کتابوں میں جہاں کشمیر کے قضیہ کا احاطہ ہے وہیں گلگت بلتستان کی پوزیشن پر بھی تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ وکٹوریا نے افغانستان، ساؤتھ ایشیا اور برطانیہ کی پرمحل ہسٹری پر بھی بہت کام کیا ہے۔ ان کی ایک کتاب Bhutto: trial and execution بھی پاکستان کی عدالتوں اور اقتدار کی غلام گردشوں میں کی جانے والی سازشوں اور گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتی ہے۔
اب Fragrance of tears کی تفصیل سے پہلے ذرا اس کے اردو مترجم سید فخر عباس کی طرف مڑتے ہیں۔ سید فخر عباس سے ہماری شناسائی اس وقت ہوئی جب وہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان تعینات ہو کر سکردو پہنچے۔ مسلم ادب کے دیس فرماں عباس نے جلد ہی بلتستان کے شاعروں سے دوستی گانٹھ لی اور خوش قسمتی سے ہم بھی ان کی تفکرِ عام میں شامل رہے۔ لمبا قد، سانولی رنگت اور ہاتھ میں ہر وقت جلتا سگریٹ اور بات بات پر بلند قہقہہ ان کی خاص نشانیاں پہچان تھی۔ فخر عباس کا تعلق پنجاب کے خوبصورت علاقہ جھنگ سے ہے۔ دریا کے کنارے ہیر سیال کی وہ دھرتی جہاں سے عشق و محبت کے زمزمے پھوٹے اور اس لوک داستان کو وارث شاہ نے باخوبی قلمبند کر کے عالمگیر کر دیا۔ فخر عباس نے سکردو سے پہلے گلگت ریڈیو اسٹیشن میں بھی بطور پروڈیوسر کام کیا ہے اور مشہور سفر نگار سلمان رشید نے اپنی کتاب Between the two burs in the map میں ان کا ذکر کچھ اس طرح کیا ہے کہ گلگت ریڈیو اسٹیشن میں جھنگ سے تعلق رکھنے والے ایلیٹڈ پروڈیوسر فخر عباس سے ملاقات ہوئی جس کا مطالعہ بھی وسیع تھا اور براڈکاسٹنگ کی فیلڈ میں بھی اسے سبقت حاصل تھی۔ فخر عباس فلسفہ، تاریخ، انگریزی اور اردو لٹریچر، سیاست اور سوشلزم پر کمال کی دسترس رکھتے ہیں اور ان کا ذوقِ مطالعہ بہت اونچا ہے۔ کالج یونیورسٹی دور سے ہی بائیں بازو کی سیاست میں شامل رہے ہیں۔ لاٹھیاں کھائیں اور جمہوریت کے حوالے سے ایک خاص نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ سکردو میں ان کی صحبت میں بی پی اے، محمد عباس کلیم، محسن، غلام حسین لودھی، سید عباس کاظمی، محمد حسنین حسرت، محمد قاسم نسیم وغیرہ کے ساتھ زیادہ رہی۔ ان کا نظریاتی لگاؤ وفاقِ پاکستان اور گلگت بلتستان کی مختلف سیاسی شخصیات سے ان کے دائمی تعلقات تھے اور اس حوالے سے وہ کسی تردد کا شکار نہیں رہے اور نہ ہی ملازمت کی مصلحتوں کو کبھی آڑے آنے دیا۔ فخر عباس کو ادبی شخصیات اور فنکاروں سے بڑی محبت ہے لہذا چاہے ریڈیو اسٹیشن ہو یا عوامی محفل، ہر جگہ وہ ان کے درمیان گہرے رہتے ہیں اور سب کی قدردانی ان کی فطرت میں شامل ہے۔ فخر عباس غالب، میر، سودا اور فیض کے بڑے شیدائی تھے وہیں بین الاقوامی ادب کا بھی بہت مطالعہ رکھتے ہیں۔ یوں اردو ادب، انگریزی ادب، حسین امتزاج اور اوپر سے براڈ کاسٹنگ کی تک و تاز نے ان کی شخصیت کو باآب بنایا ہے۔
وکٹوریا سکوفیلڈ نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم پائی ہے۔ وہ بینظیر بھٹو کی بھی تبھی سے گہری دوستوں میں محبت اور دوستی کا رشتہ بہت گہرا تھا۔ بینظیر بھٹو 1976ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی یونین کی صدر منتخب ہوئی تھیں اور یہ جنوبی ایشیا کی کسی بھی طالب علم کا واحد بڑا اعزاز تھا۔ وکٹوریا سکوفیلڈ بھی بینظیر بھٹو کے بعد 1977ء میں اس یونین کی صدر بنیں۔ آنسوؤں کی خوشبو اسی آکسفورڈ سے شروع ہوتی ہے جب وکٹوریا سکوفیلڈ پہلی بار بینظیر بھٹو سے ملتی ہے اور پھر ان کے تمام آنسوؤں پر ختم ہوتی ہے جب گورنر ہاؤس لاہور میں وہ ننگے پاؤں بینظیر کے مرقد پر پھول چڑھا رہی تھیں۔ وکٹوریا سکوفیلڈ فخر عباس کی دوست ہیں لہذا انہی کی اجازت سے فخر نے The fragrance of tears کا اردو ترجمہ کیا ہے۔ ترجمے کے بارے میں یہ بات زبانِ زدِ عام ہے کہ یہ شخص کر سکتا ہے جسے یک وقت دونوں زبانوں پر عبور حاصل ہو۔ لیکن صرف زبان دانی کافی نہیں بلکہ ادبی مذاق بھی بہت اونچا ہونا ضروری ہے اور فخر عباس میں یہ صفات بدرجہءِ اتم موجود ہیں۔ یوں اب یہ ترجمہ صرف ایک روایتی ترجمہ نہیں رہا ہے بلکہ لگتا ہے کہ یہ فخر عباس ہی کی تخلیق باطنی ہے۔ سلاست، اسلوبِ نگارش اور جذبات کے فطری اظہار کا سلیقہ غرض کہ کہیں بھی جھول نظر نہیں آتا اور ایسا لگتا ہے کہ کوئی ادبی شاہپارہ پڑھ رہے ہیں۔
وکٹوریا سکوفیلڈ نے صرف اپنی ایک دوست کی کہانی نہیں لکھی ہے بلکہ پاکستان کی تاریخ کے ایک اہم باب کے خون آلود صفحات کی شیرازہ بندی کی ہے۔ اس کتاب میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے دنوں کی نٹ کھٹ، یونین کی صدارت کے لیے لائحہ عمل، مختلف مہمات اور بے فکری کے دنوں کا جہاں نذرِ کر و ملتا ہے وہیں پر پاکستان کی قسمت میں 1977 کے دوران چھانے والے بادلوں اور پھر فرعونِ جمہوریت پر پھیلی گرنے کی روداد پڑھنے کے لائق ہے۔ ایک شہزادی کی جس کا باپ ملک کا مقبول ترین وزیرِ اعظم تھا اور پسِ دیوارِ زنداں تھا اسے انصاف دلانے کے لیے مٹی کا پیالہ پانی کو آنسوؤں کی روشنائی سے لکھا ہوا ہے۔ وکٹوریا پاکستان آتی جاتی رہی اور وہ بھٹو صاحب کے دلائل اور عدالتی قتل کی چشم دید گواہ تھی اس نے ایک ملک کی لاڈلی کو المناک موت کا فہم سہنے اور ملک کی بدترین ڈکٹیٹر شپ سے مقابلہ کرنے کی روداد نہایت سچائی کے ساتھ بیان کی ہے۔ کتاب میں بینظیر بھٹو کی بیس سال کی عمر میں وزیرِ اعظم بننے، بحیثیت ایک خاتون سیاسی و مذہبی استحصال کی برباد وادیوں سے نبرد آزما ہونے کی تاریخ بیان ہوئی ہے۔ وکٹوریا نے بینظیر بھٹو کو بطورِ وزیرِ اعظم دنیا بھر میں ایک مدبرانہ انداز میں ایک روشن خیال پاکستان کا مقدمہ لڑتے دیکھا۔ وکٹوریا نے بینظیر بھٹو کے اسرار پر مسئلہ کشمیر پر حقائق پر مبنی ریسرچ کیا اور اس موضوع پر مستند کتابیں لکھیں۔ وکٹوریا نے اپنی سہیلی کو گھر خاک و خون میں غلطاں ہوتے بھی دیکھا۔ انہوں نے پاکستان میں جمہوریت پسند سوچ کا گلا گھونٹنے دیو کی روایت کا بھی چشم دید مشاہدہ کیا ہے۔ غرض "آنسوؤں کی خوشبو” ذاتی تعلق کی ایک ڈائری نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے وہ اوراق ہیں جو پر داغ و دمِ الٹا ہوں، گزیدہ سحری داستان بیان کرتے ہیں۔
