قدرتی آفات اور ہماری ذمہ داریاں

گلگت بلتستان کے جنگلات صرف درختوں کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ پورے ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہیں یہی جنگلات پانی کے ذخائر کو محفوظ رکھنے زمین کو مضبوط بنانے اور موسمی توازن برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ جہاں دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے شجرکاری اور جنگلات کے تحفظ پر زور دیا جا رہا ہے، وہاں گلگت بلتستان کے بعض علاقوں میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

حراموش جوٹیال کا حالیہ معاملہ بھی اسی تشویش کی ایک کڑی ہے چند روز قبل سوشل میڈیا پر جنگلات کی کٹائی کی ویڈیوز سامنے آئیں، جس کے بعد محکمہ جنگلات نے نوٹس لیا یہ ایک مثبت اقدام تھا، لیکن سوال یہ ہے کہ چند دنوں بعد اگر وہی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو جائیں تو پھر ادارہ جاتی نگرانی اور کارروائی کی افادیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
گلگت بلتستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا کر رہا ہے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب اچانک بارشوں کے نتیجے میں تباہی، لینڈ سلائیڈنگ اور پانی کے ذرائع کو لاحق خطرات ہمارے سامنے موجود ہیں۔ ایسے حالات میں جنگلات کی کمی خطرات کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

قدرت نے پہاڑی علاقوں کو ایک قدرتی حفاظتی نظام دیا ہے جنگلات بارش کے پانی کو جذب کرتے ہیں زمین کے کٹاؤ کو کم کرتے ہیں اور ماحول کو متوازن رکھتے ہیں جب درخت کاٹے جاتے ہیں تو صرف ایک لکڑی کا تنا ختم نہیں ہوتا بلکہ قدرتی تحفظ کی ایک دیوار کمزور ہو جاتی ہے۔

یہ مسئلہ صرف محکمہ جنگلات یا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داری پوری کریں جنگلات کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے غیر قانونی کٹائی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور مقامی آبادی کو بھی جنگلات کے تحفظ میں شریک کیا جائے۔

حراموش کے جنگلات ہمیں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگر آج ہم نے قدرتی وسائل کی حفاظت نہ کی تو کل ہمیں اس کے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ترقی اور تعمیر ضروری ہے لیکن ایسی ترقی جو ماحول کو تباہ کرے، آنے والی نسلوں کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

گلگت بلتستان کے جنگلات ہمارا مشترکہ اثاثہ ہیں۔ ان کا تحفظ دراصل اپنی زندگی اپنی زمین اور اپنے مستقبل کا تحفظ ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وقتی اقدامات کے بجائے ایک مضبوط اور مستقل حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ حراموش سمیت پورے خطے کے قدرتی حسن اور ماحولیاتی توازن کو محفوظ رکھا جا سکے

🔔

Daily Tarjuman Notifications

تازہ ترین خبریں اور اہم اپڈیٹس فوراً حاصل کریں۔