کرۂ ارض کے لیے جنگ سے بھی بڑا خطرہ

آج دنیا ایک ایسے خاموش بحران کا سامنا کر رہی ہے جو کسی بھی جنگ سے زیادہ تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔ یہ بحران موسمیاتی تبدیلی ہے، جو اب صرف ماہرین کی بحث یا سائنسی تحقیق تک محدود نہیں رہا بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک حقیقت بن چکا ہے۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، موسم غیر متوقع ہوتے جا رہے ہیں اور قدرتی آفات کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ماضی میں سیلاب، گرمی کی لہریں، طوفان اور خشک سالی مخصوص علاقوں تک محدود رہتے تھے، لیکن اب دنیا کے تقریباً ہر خطے میں ان کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ سمیت دنیا کے تمام بڑے سائنسی ادارے موسمیاتی تبدیلی کو انسانی زندگی کے لیے سب سے بڑے خطرات میں شمار کرتے ہیں۔

دنیا کے بلند پہاڑی سلسلوں، خصوصاً ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش میں موجود برفانی گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے برف کے بڑے ذخائر کمزور ہو رہے ہیں اور ان کے نتیجے میں برفانی جھیلیں وجود میں آ رہی ہیں۔ جب ان جھیلوں کے قدرتی بند اچانک ٹوٹ جاتے ہیں تو بڑے پیمانے پر سیلاب آتا ہے، جو چند منٹوں میں بستیاں، فصلیں، پل، سڑکیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیتا ہے۔ ایسے واقعات شمالی پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران کئی مرتبہ پیش آ چکے ہیں۔

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سب سے زیادہ برداشت کر رہے ہیں، حالانکہ عالمی آلودگی میں اس کا حصہ بہت کم ہے۔ گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ میں حسن آباد کے مقام پر برفانی جھیلوں کے پھٹنے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ان سیلابوں نے گھروں، پلوں، کھیتوں اور سڑکوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ اسی طرح 2010 میں ہنزہ میں بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں عطا آباد جھیل وجود میں آئی، جس نے کئی دیہات کو زیر آب کر دیا اور شاہراہ قراقرم کا ایک بڑا حصہ کئی ماہ تک بند رہا۔ اس واقعے نے ہزاروں افراد کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا۔

بلتستان اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ہر سال جون، جولائی اور اگست کے مہینوں میں شدید گرمی کے باعث گلیشیئرز اور برف تیزی سے پگھلتی ہے۔ اگر اس دوران شدید بارشیں بھی ہو جائیں تو سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث کئی دیہات کو خطرات لاحق رہتے ہیں جبکہ زرعی زمینیں، آبپاشی کے نظام، پل اور رابطہ سڑکیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

سن 2012 سے اب تک شمالی پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہزاروں کنال زرعی زمین سیلاب لینڈ سلائیڈنگ اور دریائی کٹاو کی نذر ہو چکی ہے۔ لاکھوں پھل دار اور غیر پھل دار درخت بھی تباہ ہوئے ہیں، جس سے مقامی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ گلگت سکردو شاہراہ بار بار بند ہونے کی وجہ سے بلتستان اور دیگر بالائی علاقوں میں اشیائے خورد و نوش، ادویات اور روزمرہ استعمال کی دیگر ضروری اشیا کی فراہمی بھی متاثر ہوتی ہے، جس سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی قدرتی آفات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سیلاب، شدید گرمی، جنگلات میں آگ، سمندری طوفان اور خشک سالی نے کروڑوں انسانوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ بین الاقوامی اداروں کے اندازوں کے مطابق 2012 سے اب تک قدرتی آفات کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار سے دو لاکھ بیس ہزار افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ اسی عرصے کے دوران ڈیڑھ ارب سے زیادہ افراد کسی نہ کسی صورت میں ان آفات سے متاثر ہوئے، جبکہ تقریباً تیس کروڑ افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنا پڑی۔ عالمی سطح پر چار کروڑ سے زیادہ مکانات، تعلیمی ادارے، ہسپتال اور دیگر عمارتیں تباہ ہوئیں یا شدید نقصان کا شکار ہوئیں، جبکہ قدرتی آفات سے عالمی معیشت کو دو اعشاریہ دو کھرب امریکی ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچ چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کی بنیادی وجہ فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کا مسلسل بڑھتا ہوا اخراج ہے۔ صنعتوں سے پیدا ہونے والی آلودگی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، کوئلے، تیل اور گیس جیسے ایندھن کا زیادہ استعمال اور تیزی سے بڑھتی شہری آبادی نے زمین کے قدرتی نظام کو متاثر کیا ہے۔ بعض اوقات موسم پر مصنوعی تجربات یا دیگر انسانی مداخلتوں پر بھی بحث کی جاتی ہے، تاہم ان کے موسمیاتی تبدیلی پر اثرات کے بارے میں سائنسی دنیا میں واضح اتفاق رائے موجود نہیں۔ اس لیے اصل توجہ ان عوامل پر ہونی چاہیے جنہیں عالمی تحقیق نے ثابت کیا ہے۔

اس بحران کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایسے مکانات، پل اور سڑکیں تعمیر کی جائیں جو مقامی موسم اور قدرتی آفات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائے گئے ہوں۔ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر شجرکاری کی جائے اور موجودہ جنگلات کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے، کیونکہ درخت فضا میں موجود کاربن کو جذب کرکے ماحول کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جنگلی حیات، ندی نالوں، جھیلوں اور قدرتی ماحول کا تحفظ بھی ضروری ہے تاکہ قدرتی نظام کا توازن برقرار رہے۔ شمالی علاقوں میں برفانی جھیلوں کی مسلسل نگرانی، جدید انتباہی نظام کی تنصیب اور مقامی آبادی کو بروقت آگاہ کرنے کا مؤثر انتظام کیا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انسانی جانوں کا نقصان کم سے کم ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں شعور بیدار کرنا بھی انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اس مسئلے کا حل صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا بھی فرض ہے۔

موسمیاتی تبدیلی آنے والے وقت کا نہیں بلکہ آج کا مسئلہ ہے۔ اگر دنیا نے قدرتی ماحول کے تحفظ، آلودگی میں کمی اور پائیدار ترقی کو ترجیح نہ دی تو آنے والے برسوں میں قدرتی آفات مزید شدید اور تباہ کن ہو سکتی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک، جہاں گلیشیئرز، دریا اور پہاڑی علاقے بڑی تعداد میں موجود ہیں، اس خطرے سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے حکومت، ماہرین، سماجی اداروں اور عوام کو مل کر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، سرسبز اور متوازن ماحول فراہم کر سکیں۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانیت کی بقا کا سوال بن چکا ہے۔ اگر آج درست فیصلے کیے گئے تو مستقبل کی نسلوں کو ایک بہتر اور محفوظ دنیا دی جا سکتی ہے، بصورت دیگر اس کے نتائج پوری انسانیت کو بھگتنا پڑیں گے۔

🔔

Daily Tarjuman Notifications

تازہ ترین خبریں اور اہم اپڈیٹس فوراً حاصل کریں۔