گلگت بلتستان میں گندم کے کوٹے میں کمی: عوامی مشکلات میں اضافہ

گلگت بلتستان ایک ایسا خطہ ہے جہاں جغرافیائی سختیوں، محدود زرعی وسائل اور دشوار گزار راستوں کے باعث عوام کی بڑی تعداد اپنی بنیادی غذائی ضروریات کے لیے حکومتی سبسڈی پر انحصار کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گندم کی فراہمی صرف ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ لاکھوں افراد کے لیے خوراک اور معاشی استحکام کا مسئلہ ہے۔ ایسے میں اگر گندم اور آٹے کے کوٹے میں مسلسل کمی کی اطلاعات درست ہیں تو یہ صورتحال نہایت تشویش ناک ہے اور اس پر وفاقی حکومت کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اطلاعات کے مطابق فی کس گندم کی فراہمی پہلے تقریباً 8.5 کلوگرام تھی، جو مرحلہ وار کم ہو کر 7.5، پھر 6.5 اور اب 5 کلوگرام تک پہنچ چکی ہے۔ مزید یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ اس میں مزید کمی کی جا سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے براہِ راست اثرات عام شہریوں، خصوصاً کم آمدنی والے خاندانوں پر مرتب ہوں گے، جو پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور محدود معاشی وسائل کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ماضی میں گلگت بلتستان کے عوام کو تیل، چینی، نمک اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ پر بھی سبسڈی فراہم کی جاتی تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ سہولتیں ختم ہوتی چلی گئیں۔ اب اگر واحد بڑی رعایت یعنی گندم کی سبسڈی بھی محدود کی جا رہی ہے تو اس سے عوام میں بے چینی پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔

دوسری جانب عوام کی جانب سے گندم اور آٹے کے معیار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اگر حکومت عوام کو سبسڈی کے تحت خوراک فراہم کر رہی ہے تو اس کی مقدار کے ساتھ ساتھ معیار کو بھی یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ غیر معیاری یا ناقص آٹے کی فراہمی نہ صرف عوامی وسائل کا ضیاع ہے بلکہ صحت عامہ کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر محض انتظامی فیصلوں تک محدود نہ رہے بلکہ زمینی حقائق کا جائزہ لے۔ گلگت بلتستان کے مخصوص جغرافیائی اور معاشی حالات ملک کے دیگر علاقوں سے مختلف ہیں، اس لیے یہاں خوراک کی فراہمی سے متعلق پالیسی بھی انہی حقائق کو مدنظر رکھ کر ترتیب دی جانی چاہیے۔ اگر واقعی کوٹے میں کمی ناگزیر ہے تو اس کی وجوہات عوام کے سامنے شفاف انداز میں پیش کی جائیں، جبکہ متبادل ریلیف اور معاشی معاونت کا بھی بندوبست کیا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ گندم کی تقسیم کے نظام کو مزید شفاف، منظم اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ سبسڈی کا حقیقی فائدہ مستحق افراد تک پہنچ سکے اور کسی بھی قسم کی بدانتظامی یا ذخیرہ اندوزی کی گنجائش باقی نہ رہے۔

گلگت بلتستان کے عوام نے ہمیشہ قومی مفاد کو مقدم رکھا ہے اور ہر مشکل وقت میں ریاست کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ ان کے بنیادی غذائی حقوق کا تحفظ بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ عوامی خدشات کو سنجیدگی سے لے، گندم اور آٹے کی فراہمی کے موجودہ نظام کا ازسرنو جائزہ لے، معیار کو یقینی بنائے اور ایسے فیصلے کرے جو عوام کی مشکلات میں اضافے کے بجائے ان میں کمی کا باعث بنیں۔ یہی طرزِ عمل عوامی اعتماد کو مضبوط کرے گا اور خطے میں سماجی و معاشی استحکام کو فروغ دے گا۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *