گلگت بلتستان اپنی منفرد جغرافیائی حیثیت بلند پہاڑوں گلیشیئرز دریاؤں اور دشوار گزار علاقوں کی وجہ سے قدرتی آفات کے حوالے سے حساس خطہ ہے موسم کی معمولی تبدیلی بھی یہاں کے عوام کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔
حالیہ شدید بارشوں کے باعث مختلف دیہاتوں بالائی علاقوں اور ندی نالوں میں طغیانی کے خدشات نے ایک بار پھر قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے۔
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے ہنگامی اقدامات یقینی بنانے اور عوامی تحفظ کو اولین ترجیح دینے کی ہدایات ایک بروقت اقدام ہے ضلعی انتظامیہ گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ریسکیو 1122 محکمہ مواصلات و تعمیرات، برقیات صحت اور خوراک سمیت تمام اداروں کا فعال کردار ایسے حالات میں انتہائی اہم ہوتا ہے۔
ماضی میں گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں سیلاب لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں کی طغیانی کے باعث انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ رابطہ سڑکوں پلوں بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کو بھی نقصان پہنچتا رہا ہے ان تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف ہنگامی صورتحال میں اقدامات کافی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر پیشگی منصوبہ بندی اور حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے سب سے اہم پہلو بروقت اطلاع رسانی اور عوامی آگاہی ہے بالائی اور حساس علاقوں میں رہنے والی آبادی کو موسم کی صورتحال سے باخبر رکھنا خطرناک مقامات کی نشاندہی کرنا اور ضرورت پڑنے پر محفوظ مقامات پر منتقلی کے لیے واضح نظام موجود ہونا چاہیے۔ اسی طرح ندی نالوں کے قریب تعمیرات اور آبادی کے پھیلاؤ کو بھی سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
سڑکوں کی بحالی اور ہیوی مشینری کی دستیابی بھی گلگت بلتستان جیسے پہاڑی خطے میں انتہائی اہم ہے دور دراز علاقوں میں رابطہ سڑکیں بند ہونے کی صورت میں نہ صرف امدادی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں بلکہ مریضوں طلبہ اور عام شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر ضلع میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشینری عملہ اور وسائل پہلے سے موجود ہوں۔
اسی طرح صحت اور خوراک کے محکموں کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے متاثرہ علاقوں میں ادویات، پینے کے پانی خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے پیشگی ذخائر برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حکومت کی جانب سے افسران کو فیلڈ میں موجود رہنے اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کی ہدایت خوش آئند ہے تاہم اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ اقدامات صرف ہدایات اور اعلانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی میدان میں بھی نظر آئیں۔ قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا لیکن بہتر منصوبہ بندی مضبوط ادارہ جاتی رابطے اور عوامی تعاون سے نقصانات کو ضرور کم کیا جا سکتا ہے۔
گلگت بلتستان جیسے حساس خطے میں موسمی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر ایک مستقل اور جدید ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام وقت کی ضرورت ہے، تاکہ ہر بارش خوف کی علامت بننے کے بجائے محفوظ اور منظم طریقے سے برداشت کی جا سکے
گلگت بلتستان میں بارشیں سیلابی خطرات اور انتظامی تیاریوں کا امتحان !

Leave a Reply