بدلتی سیاسی روایت، وفاقی تعلقات اور ترقی کا امتحان

پاکستان کے شمال میں واقع گلگت بلتستان قدرتی حسن، سیاحت اور جغرافیائی اہمیت کے باعث ہمیشہ ملکی سیاست اور معیشت میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ تاہم اس خطے کی سیاست بھی اتنی ہی منفرد رہی ہے جتنی اس کی جغرافیائی حیثیت۔ گزشتہ کئی برسوں سے گلگت بلتستان کے انتخابات میں ایک ایسی سیاسی روایت قائم تھی جس نے ہر انتخاب میں خود کو درست ثابت کیا۔ یہ روایت یہ تھی کہ وفاق میں جس جماعت کی حکومت ہوتی، گلگت بلتستان کے عوام بھی اقتدار اسی جماعت کے حوالے کر دیتے۔ سیاسی مبصرین اس رجحان کو وفاقی اثرورسوخ، ترقیاتی وسائل کی تقسیم اور عوام کی عملی سوچ سے جوڑتے رہے ہیں۔

یہ روایت 2009 کے بعد مزید واضح ہو گئی۔ 2015 میں جب وفاق میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی تو گلگت بلتستان میں بھی مسلم لیگ (ن) برسرِ اقتدار آئی۔ 2020 میں وفاق میں پاکستان تحریک انصاف حکومت میں تھی تو گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کامیاب رہی۔ اس تسلسل نے یہ تاثر مضبوط کر دیا کہ گلگت بلتستان کے عوام وفاق کے ساتھ ہم آہنگ حکومت کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ ترقیاتی منصوبوں، مالی وسائل اور انتظامی تعاون میں آسانی رہے۔

اس روایت کا ایک اور پہلو بھی تھا۔ چونکہ گلگت بلتستان کے انتخابات وفاقی انتخابات کے تقریباً اڑھائی سال بعد منعقد ہوتے ہیں، اس لیے جب وفاق میں حکومت تبدیل ہوتی تو گلگت بلتستان میں پہلے سے موجود حکومت کو نئی وفاقی حکومت کے ساتھ کام کرنا پڑتا۔ اگر دونوں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتی ہوتیں تو اکثر تعلقات میں سردمہری آ جاتی، ترقیاتی فنڈز کی رفتار سست ہو جاتی اور خطے کی حکومت کو اپنی مدت کے آخری اڑھائی سال نسبتاً مشکل حالات میں گزارنے پڑتے۔ ماضی میں کئی حکومتیں اس صورتحال کا سامنا کر چکی ہیں۔

رواں سال ہونے والے انتخابات نے اس طویل سیاسی روایت کو توڑ دیا۔ وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں حکومت موجود ہے، جبکہ گلگت بلتستان کے عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی کو اقتدار سونپ دیا۔ یہ نتیجہ سیاسی حلقوں کے لیے غیر متوقع ضرور تھا، لیکن اس نے یہ بھی ثابت کیا کہ گلگت بلتستان کے ووٹر اب صرف وفاقی حکومت کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کرتے بلکہ مقامی سیاسی عوامل بھی ان کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

فی الحال وفاق میں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی اتحادی جماعتیں ہیں، اس لیے گلگت بلتستان کی نئی حکومت کو وفاق سے تعاون حاصل ہونے کی توقع ہے۔ تاہم پاکستانی سیاست میں اتحاد ہمیشہ مستقل نہیں رہتے۔ اگر مستقبل میں دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوتے ہیں تو اس کے اثرات سب سے پہلے گلگت بلتستان جیسے خطے پر پڑ سکتے ہیں، جہاں ترقیاتی منصوبوں اور مالی وسائل کا انحصار بڑی حد تک وفاق پر ہے۔

اسی پس منظر میں نومنتخب وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ یہ محض ایک رسمی ملاقات نہیں تھی بلکہ اس میں گلگت بلتستان کو درپیش مالی، معاشی اور ترقیاتی مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے وزیراعظم کو بتایا کہ گلگت بلتستان اس وقت شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔ بجٹ خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور اس کی وجہ سے کئی ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے خصوصی مالی تعاون کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت فنڈز فراہم نہ کیے گئے تو جاری منصوبوں کی تکمیل میں مزید تاخیر ہوگی، جس کا نقصان براہ راست عوام کو اٹھانا پڑے گا۔

ملاقات میں توانائی کے شعبے کو بھی اولین ترجیح دی گئی۔ گلگت بلتستان کئی دہائیوں سے بجلی کی قلت کا سامنا کر رہا ہے، خصوصاً سردیوں میں لوڈشیڈنگ معمول کی زندگی کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے مطالبہ کیا کہ جاری پن بجلی منصوبوں کے لیے فوری فنڈز جاری کیے جائیں تاکہ توانائی بحران پر قابو پایا جا سکے۔ اگر یہ منصوبے بروقت مکمل ہو جاتے ہیں تو نہ صرف گھریلو صارفین کو ریلیف ملے گا بلکہ صنعت، تجارت اور سیاحت کو بھی نئی زندگی مل سکتی ہے۔

گندم سبسڈی کا معاملہ بھی ملاقات کا اہم موضوع رہا۔ گلگت بلتستان کے عوام کی بڑی تعداد سبسڈی والی گندم پر انحصار کرتی ہے، اس لیے یہ مسئلہ ہمیشہ حساس رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے لیے گندم کا مکمل کوٹہ بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ خطے کی دیگر مالی ضروریات بھی مرحلہ وار پوری کی جائیں گی۔ اگر اس وعدے پر عملی طور پر عمل ہوتا ہے تو مہنگائی کے موجودہ دور میں عوام کو کافی حد تک ریلیف مل سکتا ہے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے صرف مالی امداد تک اپنی گفتگو محدود نہیں رکھی بلکہ انہوں نے مستقبل کی ترقی کے لیے بھی کئی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے گلگت بلتستان میں انٹرنیٹ بینڈوڈتھ بڑھانے، جدید سیاحتی سہولیات فراہم کرنے اور گلگت میں بوئنگ طیاروں کے لیے موزوں ہوائی اڈے کی تعمیر میں وفاقی تعاون طلب کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر جدید انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے تو گلگت بلتستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سیاحت کا مرکز بن سکتا ہے۔

نوجوانوں کے لیے روزگار، فنی تربیت اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ پر بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان تفصیلی گفتگو ہوئی۔ گلگت بلتستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، لیکن روزگار کے محدود مواقع کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر وفاق اور صوبائی حکومت مل کر ہنرمندی، آئی ٹی، سیاحت اور چھوٹے کاروباروں کے شعبے میں سرمایہ کاری کریں تو ہزاروں نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے۔

ملاقات کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے یقین دہانی کرائی کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کی ترقی، عوامی خوشحالی اور جاری منصوبوں کی تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ امجد حسین نے وفاقی حکومت کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کی ترقی صرف وعدوں سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے بروقت فنڈز، مؤثر منصوبہ بندی، شفاف حکمرانی اور وفاق و گلگت بلتستان کے درمیان مسلسل اعتماد کی ضرورت ہوگی۔ اگر وفاقی اتحاد مضبوط رہتا ہے تو موجودہ حکومت کے لیے ترقیاتی اہداف حاصل کرنا نسبتاً آسان ہوگا، لیکن اگر سیاسی اختلافات جنم لیتے ہیں تو سب سے زیادہ نقصان گلگت بلتستان جیسے خطے کو پہنچ سکتا ہے، جہاں بنیادی ڈھانچے اور مالی وسائل کی ضرورت پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔

گلگت بلتستان اس وقت ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہو چکا ہے۔ یہاں کی نئی حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ وفاق کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھتے ہوئے عوام سے کیے گئے وعدے بھی پورے کرے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کے لیے بھی یہ ایک امتحان ہے کہ وہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر اس خطے کی ترقی کو قومی ترجیح بنائے۔

اگر دونوں حکومتیں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوامی مفاد کو مقدم رکھتی ہیں تو گلگت بلتستان نہ صرف معاشی طور پر مضبوط ہوگا بلکہ سیاحت، توانائی، تجارت اور علاقائی رابطوں کے حوالے سے پاکستان کی ترقی کا ایک اہم مرکز بھی بن سکتا ہے۔ لیکن اگر ماضی کی طرح سیاسی کشیدگی غالب آ گئی تو ترقی کے خواب ایک بار پھر ادھورے رہ جائیں گے، اور اس کا خمیازہ سب سے زیادہ گلگت بلتستان کے عوام کو بھگتنا پڑے گا۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *