تحریر: امتیاز سلطان
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ کی وزیراعظم پاکستان سے حالیہ ملاقات نے ایک بار پھر اس امید کو تقویت دی ہے کہ وفاق اور گلگت بلتستان کے درمیان ترقیاتی تعاون کا نیا باب کھل سکتا ہے ملاقات میں بجلی سڑکوں سیاحت معدنیات انفراسٹرکچر اور دیگر اہم شعبوں سے متعلق معاملات زیر بحث آئے جو بلاشبہ گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
گلگت بلتستان قدرتی وسائل معدنی ذخائر سیاحتی حسن اور آبی وسائل سے مالا مال خطہ ہے۔ اگر ان تین بنیادی شعبوں، یعنی توانائی سیاحت اور معدنیات کو جدید تقاضوں کے مطابق ترقی دی جائے تو یہ خطہ نہ صرف اپنی مالی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ قومی معیشت میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے اس خطے کی جغرافیائی اہمیت بھی اسے پاکستان کے لیے ایک غیر معمولی حیثیت دیتی ہے۔
تاہم ماضی کے تجربات عوام کو محتاط رہنے پر مجبور کرتے ہیں گزشتہ کئی برسوں میں مختلف حکومتوں کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں مالی معاونت اور آئینی حقوق کے حوالے سے متعدد اعلانات کیے گئے مگر ان میں سے کئی منصوبے فنڈز کی عدم فراہمی سست روی بیوروکریٹک رکاوٹوں اور مؤثر نگرانی کے فقدان کی وجہ سے مطلوبہ نتائج نہ دے سکے۔
اصل چیلنج اعلانات کرنا نہیں بلکہ ان پر بروقت اور مؤثر عمل درآمد یقینی بنانا ہے اگر وفاق واقعی گلگت بلتستان کی ترقی کا خواہاں ہے تو سب سے پہلے ترقیاتی فنڈز کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ منصوبے مالی مشکلات کا شکار نہ ہوں اسی طرح اسلام آباد اور گلگت بلتستان حکومت کے درمیان ایک مؤثر مشترکہ مانیٹرنگ نظام تشکیل دینا ضروری ہے جو منصوبوں کی رفتار، شفافیت اور معیار کی مسلسل نگرانی کرے۔
اس وقت سب سے زیادہ توجہ بجلی اور سڑکوں کے منصوبوں پر دینے کی ضرورت ہے۔ بجلی کا بحران نہ صرف عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ صنعت تجارت اور سیاحت کی ترقی کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ ہے اسی طرح جدید شاہراہیں اور بہتر فضائی سہولیات سیاحت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
گلگت بلتستان کے نوجوان اس خطے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اگر انہیں مقامی سطح پر روزگار کاروبار اور ہنر کے مواقع فراہم کیے جائیں تو نہ صرف بے روزگاری میں کمی آئے گی بلکہ ہجرت کا رجحان بھی کم ہوگا۔ سیاحت آئی ٹی معدنیات اور پن بجلی کے شعبے نوجوانوں کے لیے ہزاروں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کی ملاقات یقیناً ایک مثبت پیش رفت ہے مگر اس کی کامیابی کا پیمانہ صرف اعلانات نہیں ہوں گے بلکہ ان وعدوں کا عملی نتیجہ ہوگا جب گلگت بلتستان کے گھروں میں پانی و بجلی ہوگی سڑکیں محفوظ اور جدید ہوں گی سیاحتی مراکز عالمی معیار کے مطابق ترقی کریں گے اور نوجوانوں کو اپنے ہی علاقے میں باعزت روزگار ملے گا تب ہی اس ملاقات کو حقیقی کامیابی قرار دیا جا سکے گا۔
گلگت بلتستان کسی خیراتی پیکج کا منتظر خطہ نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت سیاحت آبی وسائل اور جغرافیائی سلامتی کا ایک اہم ستون ہے اب وقت آ گیا ہے کہ وعدوں اور اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ گلگت بلتستان ترقی، خوشحالی اور خود انحصاری کی نئی منزلوں کی جانب گامزن ہو سکے یہی عوام کی توقع ہے اور یہی وقت کا تقاضا بھی

Leave a Reply