منشیات کے سائے میں تعلیمی ادارے اور گلگت بلتستان کے مستقبل کا سوال۔

کسی بھی معاشرے کا مستقبل اس کی نوجوان نسل سے وابستہ ہوتا ہے۔ نوجوان قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں اور تعلیمی ادارے وہ جگہیں ہیں جہاں اس سرمایہ کو علم، شعور اور کردار کے ذریعے پروان چڑھایا جاتا ہے لیکن اگر یہی تعلیمی ادارے کسی معاشرتی برائی کی زد میں آنے لگیں تو یہ صرف ایک تعلیمی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل کے لیے ایک خطرے کی علامت بن جاتا ہے گلگت بلتستان جو اپنی امن پسند روایات اعلیٰ سماجی اقدار اور تعلیمی رجحان کے لیے پہچانا جاتا ہے آج ایک نئے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کے حوالے سے عوامی اور سماجی حلقوں میں تشویش بڑھ رہی ہے میڈیا رپورٹس والدین کی شکایات اور مختلف حلقوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے خدشات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ نوجوان طلبہ کے ساتھ ساتھ طالبات میں بھی اس رجحان کے بڑھنے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں اگرچہ اس حوالے سے مکمل اور مستند اعداد و شمار سامنے لانے کے لیے باقاعدہ سروے اور تحقیقات کی ضرورت ہے تاہم محض خدشات کا پیدا ہونا بھی حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے فوری توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔

منشیات کا مسئلہ صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک سماجی، تعلیمی اور اخلاقی بحران بھی ہے۔ ایک طالب علم جو اپنی صلاحیتیں تعلیم تحقیق اور مثبت سرگرمیوں میں صرف کرے اگر وہ منشیات کی طرف مائل ہو جائے تو اس کا نقصان صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہےمنشیات نوجوانوں کی سوچ، صحت، تعلیمی کارکردگی اور مستقبل کے امکانات کو متاثر کرتی ہیں سوال یہ ہے کہ آخر نوجوان نسل تک منشیات کیسے پہنچ رہی ہیں؟
کیا تعلیمی اداروں کے اطراف میں سرگرم عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی ہو رہی ہے؟
کیا نگرانی کا نظام کافی ہے؟

کیا والدین اور اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط ہے؟

یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف پولیس کارروائی کافی نہیں ہوگی منشیات فروشوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ ان عوامل کو بھی سمجھنا ہوگا جو نوجوانوں کو اس طرف دھکیلتے ہیں ذہنی دباؤ، مثبت سرگرمیوں کی کمی، تنہائی، غلط صحبت اور رہنمائی کا فقدان بعض اوقات نوجوانوں کو نقصان دہ راستوں کی طرف لے جاتا ہے حکومت گلگت بلتستان کو چاہیے کہ محکمہ تعلیم، محکمہ صحت پولیس اور سماجی اداروں کے تعاون سے ایک جامع حکمت عملی تیار کرے تعلیمی اداروں میں آگاہی پروگرام طلبہ کی کونسلنگ اساتذہ کی تربیت اور والدین کے ساتھ مسلسل رابطہ اس حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے والدین کا کردار بھی انتہائی اہم ہے بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق ان کی سرگرمیوں پر نظر اور بروقت رہنمائی انہیں کئی خطرات سے محفوظ رکھ سکتی ہے اسی طرح اساتذہ کو بھی صرف نصابی تعلیم تک محدود رہنے کے بجائے طلبہ کی ذہنی اور سماجی تربیت پر توجہ دینی ہوگی۔

میڈیا بھی اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ منشیات کے مسئلے کو صرف خبروں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے مسلسل مہم چلائی جائے گلگت بلتستان کے نوجوان اس خطے کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں ان کا تحفظ دراصل گلگت بلتستان کے مستقبل کا تحفظ ہے۔ آج اگر حکومت والدین اساتذہ اور معاشرہ مل کر اس مسئلے کے خلاف مؤثر کردار ادا کرتے ہیں تو آنے والی نسلوں کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
خاموشی کسی مسئلے کا حل نہیں منشیات کے بڑھتے ہوئے خطرے کے خلاف بروقت اقدامات ہی وہ راستہ ہیں جو گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں کو محفوظ اور نوجوان نسل کو روشن مستقبل دے سکتے ہیں

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *