جن ملازمین کے ذاتی گھر متعلقہ دفتر سے25کلومیٹر کے دائرے میں ہوں سے سرکاری کوارٹر واپس لیے جائیں گے،قابض ملازمین کو باقاعدہ نوٹس جاری کیاجائے گا،عملدرآمد نہ کرنے پر کارروائی ہوگی
ملازمین کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی یا مکان خالی کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا تو ملازم سے برطرفی تک کی سزا شامل ہو سکتی ہے،مجوزہ قانون سازی سے متعلق تاحال کوئی سرکاری اعلامیہ جاری نہیں کیاگیا
گلگت (بیورو رپورٹ)وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈوکیٹ نے سرکاری رہائشی مکانات کے حوالے سے ایک اہم اور سخت پالیسی مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے باخبر ذرائع کے مطابق، حکومت ایسے تمام سرکاری ملازمین سے رہائشی سہولت واپس لینے جا رہی ہے جن کے اپنے ذاتی گھر متعلقہ دفتر سے 25 کلومیٹر کے دائرے میں واقع ہیں ذرائع نے مزید بتایا کہ اس مجوزہ قانون کے تحت سرکاری مکانات پر قابض ملازمین کو مکان خالی کرانے کے لیے باقاعدہ تین مرتبہ نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ قانون کو مزید موثر بنانے کے لیے اس میں ایک سخت شق شامل کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے تحت اگر کوئی ملازم مکان خالی کرنے کے بجائے قانونی چارہ جوئی یا عدالتی حکم امتناعی (Stay Order) لینے کی کوشش کرے گا، تو اس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی جس میں ملازمت سے برطرفی تک کی سزا شامل ہو سکتی ہے تاہم اس مجوزہ قانون سازی کے حوالے سے تاحال حکومتِ گلگت بلتستان کی جانب سے کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن یا سرکاری اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا ہے، جس کے بعد سرکاری حلقوں میں اس خبر پر ملا جلا ردعمل پایا جاتا ہے مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اس فیصلے پر عمل درآمد ہوتا ہے تو اس سے سرکاری رہائشی املاک کا درست استعمال ممکن ہو سکے گا اور ایسے ملازمین کو یہ سہولت مل سکے گی جو واقعی اس کے مستحق ہیں اور دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

Leave a Reply