تحریر: دلشاد ہادی
نیہا بورا چونکہ طویل بھوک ہڑتال کے باعث شدید نقاہت کے عالم میں لیٹی ہوئی تھیں، اس لیے انڈیا کی معروف اور سینئر اداکارہ شبانہ اعظمی ان کے قریب گئیں اور شفقت سے بار بار ان کے ہاتھ چومتی رہیں۔ یہ محض ایک جذباتی لمحہ نہیں تھا، بلکہ ایک نئی نسل کی سیاسی جدوجہد اور روایت کے احترام کا ایک نہایت خوبصورت اور یادگار منظر تھا۔
مئی 2026 میں جب ابھیجیت دیپکے نامی 30 سالہ پولیٹیکل ایکٹوسٹ نے” کاکروچ جنتا پارٹی” کے نام سے ایک طنزیہ آن لائن تحریک کا آغاز کیا، تو ابتدا میں یہ عوام اور میڈیا کے لیے محض ایک انٹرنیٹ مہم، لطیفہ یا میم معلوم ہوتا تھا۔ تاہم، دیکھتے ہی دیکھتے یہ آن لائن مزاح لاکھوں فالوورز پر مشتمل ایک حقیقی سماجی اور سیاسی لہر میں تبدیل ہو گیا۔ لیکن اس تحرک کے باوجود، ابھیجیت دیپکے بذاتِ خود ایک سنجیدہ یا پختہ رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے نہ آ سکے۔ ان کی گفتگو میں عامیانہ پن تھا اور وہ تحریک کی افادیت کو ایک بڑے سیاسی بیانیے میں ڈھالنے سے قاصر رہے۔ ہرچند کہ اس تحریک کی بنیاد انہوں نے رکھی تھی، مگر وہ عوامی پلیٹ فارمز پر سنجیدہ قیادت کے طور پر خود کو پیش نہ کر سکے۔ یہی وجہ تھی کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی جگہ دیگر ایسے چہرے سامنے آتے گئے جو اپنی شاندار پریزنٹیشن، فکری وضوح اور ابلاغی صلاحیتوں کے بل بوتے پر تمام تر توجہ کا مرکز بن گئے—اور یہ ان کا حق بھی تھا۔
انھی ابھرتے ہوئے چہروں میں ایک نمایاں نام نیہا بورا کا ہے۔

اتراکھنڈ سے تعلق رکھنے والی 29 سالہ نیہا بورا نے دہلی یونیورسٹی سے بیچلر، امبیڈکر یونیورسٹی سے ماسٹرز اور فی الوقت وہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (JNU) کے شعبہ فنون و جمالیات (School of Arts and Aesthetics) میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ ایک بہترین تھیٹر آرٹسٹ بھی ہیں اور ’آل انڈیا سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن‘ (AISA) کی قومی صدر کے طور پر ذمہ داریاں سرانجام دے رہی ہیں۔ AISA انڈیا کی کمیونسٹ پارٹی کے ایک دھڑے سے وابستہ طلبہ ونگ ہے، جس کا اپنا ایک دہائیوں پر محیط سیاسی، آئینی اور تنظیمی پس منظر ہے۔ یعنی یہ کاکروچ جنتا پارٹی کی طرح کوئی یکایک ابھرنے والی طنزیہ یا عارضی جماعت نہیں، بلکہ ایک قائم شدہ نظریاتی ڈھانچہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیہا بورا کی شخصیت میں دیپکے کے برعکس زیادہ ٹھہراؤ، سیاسی سنجیدگی اور نظریاتی فہم محسوس ہوتا ہے۔
جون 2026 میں جب معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے دہلی کے جنتر منتر پر تعلیمی پالیسیوں اور مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کو لے کر غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال شروع کی، تو نیہا بورا بھی اپنی تنظیم کے دو دیگر رہنماؤں کے ساتھ اس احتجاج میں شامل ہو گئیں۔ یہ بھوک ہڑتال مسلسل 23 دن تک جاری رہی۔
اس طویل اور کٹھن جدوجہد کے آغاز سے قبل نیہا کا وزن 66 کلوگرام تھا، جو اس فاقہ کشی کے باعث تقریباً 8 کلوگرام تک کم ہو گیا۔ ان کے خون میں شوگر کی سطح اس خطرناک حد تک گر گئی کہ ڈاکٹروں کو موقع پر ہی فوری طبی امداد فراہم کرنا پڑی۔ ایک طرف ان کی یہ سیاسی قربانی تھی جس نے انہیں راتوں رات قومی سطح پر ایک الگ شناخت دی، تو دوسری طرف ان کے بول چال اور خصوصاً طرزِ خطابت نے نقادوں اور عوامی حلقوں کو ششدر کر دیا۔
اگرچہ نیہا بورا کو مرکزی دھارے اور سوشل میڈیا پر اب نمایاں پذیرائی مل رہی ہے، مگر وہ اس سے قبل بھی تعلیمی نجکاری، ہجوم کے تشدد (ماب لنچنگ)، بلقیس بانو کیس میں انصاف اور غزہ کے انسانی بحران جیسے کلیدی موضوعات پر ہمیشہ بے باکی سے بولتی رہی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے طلبہ کے ایک امن مارچ پر ہونے والے پولیس تشدد کے خلاف دہلی پولیس کمشنر کے استعفے کا مطالبہ بھی پوری قوت سے اٹھایا۔
نیہا کو سننے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کتنی متوازن اور پختہ کار ایکٹوسٹ ہیں۔ ان کی گفتگو میں ہمیشہ ایک سلیقہ، شائستگی اور دلیل کی بنیاد پر بات کرنے کا انداز نظر آتا ہے۔ وہ کبھی بھی مباحثے کو جذباتی ہیجان کی نذر نہیں ہونے دیتی۔ سخت سے سخت اور اشتعال انگیز سوال کا سامنا کرتے ہوئے بھی وہ نہ تو برہم ہوتی ہیں اور نہ ہی سوال کرنے والے کی نیت پر حملے کرتی ہیں؛ بلکہ انتہائی تحمل سے پوری بات سن کر منطقی ترتیب اور شواہد کے ساتھ اپنا موقف پیش کرتی ہیں۔ ان کے لہجے میں ایک غیر معمولی وقار اور سنجیدگی ہے، جو آواز بلند کیے بغیر بھی اپنی بات لوہا منوانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ان کی سیاسی اور آئینی معملات پر گرفت بھی بے حد مضبوط ہے۔ ملکی سیاست، قانون سازی، مختلف جماعتوں کا ردِعمل اور تاریخی پس منظر ان کے ذہن میں واضح رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی موضوع کے عملی، سیاسی اور تاریخی پہلوؤں کو یکجا کر کے بات کرتی ہیں، جس سے ان کے موقف میں وزن اور اعتماد پیدا ہوتا ہے۔
اس تمام تر سیاسی ہلچل کا سب سے دلچسپ پہلو ابھیجیت دیپکے اور نیہا بورا کا موازنہ ہے۔ دونوں دو بالکل مختلف پس منظر سے آتے ہیں۔ امریکہ سے تعلیم یافتہ دیپکے نے ایک آن لائن ٹرینڈ کے ذریعے تحرک پیدا کیا، جبکہ نیہا بورا گراؤنڈ لیول کی نظریاتی اور دہائیوں پرانی طلبہ سیاست کا حاصل ہیں۔ شاید یہی بنیادی فرق ہے کہ ابھیجیت محض ایک عارضی شہرت یا وائرل نام بن کر رہ گئے، جبکہ نیہا بورا کو عوام اور سنجیدہ فکری حلقوں میں پائیدار قبولیت حاصل ہو رہی ہے۔
ڈیجیٹل دور کا یہ المیہ ہے کہ ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ جیسے ہیش ٹیگز اور میمز لوگوں کو یکجا تو کر سکتے ہیں، لیکن جب تک اس کے پیچھے نیہا بورا جیسا سنجیدہ فکر، نظریاتی استحکام اور ایثار موجود نہ ہو، کوئی بھی تحرک ایک پائیدار تحریک کا روپ دھارنے میں ناکام رہتی ہے۔

Leave a Reply