وفاقی بے حسی اور عوام کی مشکلات

دنیا کے تین عظیم اور بلند ترین پہاڑی سلسلوں—ہندو کش ہمالیہ اور قراقرم کے سنگم پر واقع گلگت بلتستان اس وقت عالمی موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) کے سخت ترین اثرات کا سامنا کر رہا ہے قدرت نے اس خطے کو جتنا حسن اور تزویراتی اہمیت بخشی ہے بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات نے اسے اتنا ہی حساس اور آسیب پذیر بنا دیا ہے شدید ترین موسمی تغیرات کے باعث جہاں گرمیوں میں گرمی کے سابقہ ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں اور سردیوں میں درجہ حرارت منفی کی اخلاقی حدوں کو چھو رہا ہے وہیں مون سون اور برسات کا موسم یہاں کے رہائشیوں کے لیے نئی آزمائشیں لے کر آتا ہے۔
برسات کے دوران ندی نالوں میں آنے والی طغیانی گلیشیئر جھیلیں پھٹنے (GLOF) کے حادثات اور سب سے بڑھ کر حالیہ چند سالوں سے بادل پھٹنے (Cloudburst) کے تباہ کن عمل نے یہاں تباہی کے ایسے خوفناک سلسلے کو جنم دیا ہے جس نے مقامی آبادی کے روزمرہ معمولات کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔

گزشتہ کئی دنوں سے گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع جن میں دیامر گلگت استور غذر اور دیگر ملحقہ علاقے شامل ہیں مسلسل وقفے وقفے سے جاری بارشوں کی لپیٹ میں ہیں ان شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں نے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے متعدد مقامات پر رابطہ سڑکیں اور پل بہہ جانے کے باعث کئی اضلاع کا ایک دوسرے سے اور ملک کے دیگر حصوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہےجس سے امدادی کارروائیوں میں سخت دشواری پیش آ رہی ہے۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جو وفاق سے فنڈز کے حصول کے لیے اسلام آباد میں موجود تھے اپنے تمام تر سیشنز مختصر کر کے فوری طور پر واپس گلگت پہنچ چکے ہیں تاکہ وہ خود میدان میں اتر کر امدادی کاموں کی نگرانی کر سکیں۔

ان تمام تر ہنگامی حالات اور قدرتی آفات کے سامنے کھڑے گلگت بلتستان کے لیے جہاں وفاق کی طرف سے کسی فوری خصوصی موسمیاتی و امدادی پیکج کا اعلان ہونا چاہیے تھا وہاں ایک انتہائی افسوسناک تصویر سامنے آتی ہے وفاقی حکومت نے نہ صرف اس ہنگامی صورتحال میں تعمیر و ترقی کے بجٹ میں اضافہ نہیں کیا بلکہ پہلے سے جاری و منظور شدہ بجٹ پر کٹوتی کا تازیانہ بھی چلا دیا ہے۔
موسمیاتی تباہ کاریوں کی زد میں آئے ایک حساس سرحدی خطے کے ساتھ یہ رویہ نہ صرف معاشی بے انصافی ہے بلکہ یہاں کے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے جب جغرافیائی اور ماحولیاتی حالات کے سبب گلگت بلتستان کا پورا انفراسٹرکچر بار بار تباہی کا شکار ہو رہا ہو تو محض روایتی بجٹ کی فراہمی بھی ناکافی ہوتی ہے چہ جائیکہ اس میں مزید کٹوتی کر دی جائے۔

گلگت بلتستان محض ایک سیاحتی خطہ نہیں بلکہ پاکستان کی ماحولیاتی اور آبی بقا کا ضامن ہے۔ اگر وفاق نے اپنے رویے پر نظرِ ثانی نہ کی اور ہنگامی بنیادوں پر اس خطے کو ضروری مالی وسائل خصوصی آفت زدہ پیکج اور مستقل بنیادوں پر ریلیف نہ دیا تو سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ ہزاروں خاندان کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور رہیں گے وقت کا تقاضا ہے کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے بجٹ پر لگائی گئی کٹوٹیاں فوری طور پر واپس لے ترقیاتی اور امدادی فنڈز کا اجرا یقینی بناتے ہوئے بنائے اور اس خطے کو تباہ کن موسمیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے پائیدار مالیاتی و انتظامی ڈھانچہ فراہم کرے۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *