گلگت شہر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے حملوں میں مسلسل اضافہ ایک ایسے خاموش بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے چند سال قبل تک کتے کے کاٹنے کے واقعات محدود تھے لیکن اب تقریباً ہر ہفتے ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جن میں بچے خواتین بزرگ اور نوجوان زخمی ہو رہے ہیں یہ صورتحال صرف شہریوں کے خوف کا باعث نہیں بلکہ عوامی صحت، بلدیاتی نظام اور حکومتی کارکردگی کے لیے بھی ایک بڑا امتحان بن چکی ہے۔
دنیا بھر میں ریبیز ایک مہلک مگر قابلِ انسداد بیماری سمجھی جاتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق ہر سال دنیا میں تقریباً 59 ہزار افراد ریبیز کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں جن میں سے 95 فیصد اموات ایشیا اور افریقہ میں ہوتی ہیں ان اموات میں زیادہ تر بچے شامل ہوتے ہیں پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں ریبیز اب بھی ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ ہے جبکہ کتے کے کاٹنے کے لاکھوں واقعات ہر سال رپورٹ ہوتے ہیں۔
گلگت بلتستان میں اگرچہ اس حوالے سے باقاعدہ سرکاری اعداد و شمار عوام کے سامنے نہیں آتے تاہم شہید سیف الرحمٰن گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال گلگت اور دیگر ضلعی ہسپتالوں میں روزانہ کی بنیاد پر کتے کے کاٹنے کے متعدد مریض علاج کے لیے پہنچتے ہیں ہر مریض کو اینٹی ریبیز ویکسین فراہم کی جاتی ہے جبکہ شدید نوعیت کے کیسز میں ہیومن ریبیز امیونوگلوبلن (HRIG) بھی لگایا جاتا ہے جو انتہائی مہنگی دوا ہےایک مریض کے علاج پر آنے والی لاگت ہزاروں سے لاکھوں روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر روک تھام پر توجہ نہ دی جائے تو صحت کا نظام ہر سال کروڑوں روپے صرف ان واقعات کے علاج پر خرچ کرتا رہے گا۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر گلگت میں آوارہ کتوں کی تعداد میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ شہر میں کچرے کو بروقت ٹھکانے نہ لگانا کھلے ڈمپنگ پوائنٹس ہوٹلوں اور قصائیوں کا فضلہ، شہری آبادی کا تیزی سے پھیلاؤ اور آوارہ کتوں کی افزائش پر کسی مؤثر نظام کا نہ ہونا وہ عوامل ہیں جنہوں نے اس مسئلے کو سنگین بنا دیا ہے جہاں خوراک وافر ہو وہاں آوارہ جانوروں کی تعداد بھی تیزی سے بڑھتی ہے اور یہی صورتحال آج گلگت میں نظر آ رہی ہے۔
بدقسمتی سے متعلقہ اداروں کا ردعمل زیادہ تر حادثے کے بعد سامنے آتا ہے۔ چند دن کے لیے مہم چلتی ہے، کچھ کتوں کو تلف کیا جاتا ہے، اور پھر معاملہ دوبارہ سرد خانے میں چلا جاتا ہے یہ طرزِ عمل نہ تو سائنسی ہے اور نہ ہی دیرپا دنیا کے کئی ممالک نے ثابت کیا ہے کہ صرف کتوں کو مارنے سے مسئلہ ختم نہیں ہوتا بلکہ ان کی جگہ نئے کتے آ جاتے ہیں۔
اس مسئلے کا پائیدار حلTNVR
(Trap, Neute Vaccinate and Release) پروگرام میں ہے جس کے تحت آوارہ کتوں کو پکڑ کر ان کی نس بندی، ویکسینیشن رجسٹریشن اور نگرانی کی جاتی ہے اس طریقہ کار سے چند برسوں میں آوارہ کتوں کی آبادی میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ محفوظ شیلٹرز جدید ویسٹ مینجمنٹ عوامی آگاہی اور مسلسل نگرانی کو بھی حکمت عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔
گلگت بلتستان حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو صرف میونسپل کارپوریشن کی ذمہ داری نہ سمجھے بلکہ محکمہ صحت محکمہ لائیو اسٹاک بلدیاتی اداروں ضلعی انتظامیہ اور سول سوسائٹی کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لا کر صوبائی سطح کی پالیسی مرتب کرے ہر ضلع میں اینٹی ریبیز ویکسین اور HRIG کی مسلسل دستیابی یقینی بنائی جائے جبکہ کتوں کے کاٹنے کے تمام واقعات کا باقاعدہ ڈیٹا جمع کیا جائے تاکہ مستقبل کی منصوبہ بندی حقائق کی بنیاد پر ہو۔
دوسری جانب عوام کی ذمہ داری بھی کم نہیں اگر کسی شخص کو کتا کاٹ لے تو زخم کو فوری طور پر کم از کم پندرہ منٹ تک صابن اور بہتے ہوئے پانی سے دھونا چاہیے اور بغیر کسی تاخیر کے قریبی ہسپتال جانا چاہیے دیسی ٹوٹکوں جادو ٹونے یا غیر سائنسی طریقوں پر انحصار جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
گلگت کو ایک صاف محفوظ اور صحت مند شہر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس مسئلے کو وقتی مہمات کے بجائے مستقل پالیسی کے ذریعے حل کریں۔ شہریوں کی جانوں کا تحفظ صرف علاج فراہم کرنے سے نہیں بلکہ ایسے واقعات کی روک تھام سے ممکن ہے اگر آج سنجیدہ اور سائنسی بنیادوں پر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں نہ صرف ریبیز کا خطرہ بڑھے گا بلکہ صحت کے شعبے پر مالی بوجھ بھی کئی گنا بڑھ جائے گا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت بلدیاتی ادارے محکمہ صحت ماہرین میڈیا اور عوام مل کر اس خاموش بحران کا مستقل حل تلاش کریں یہی ایک ذمہ دار معاشرے اور مؤثر طرزِ حکمرانی کی پہچان ہے
