کچھ زخم وقت بھی نہیں مٹا سکتا

وقت کی کچھ ساعتیں ایسی ہوتی ہیں جو گزر تو جاتی ہیں، مگر انسان کے اندر ہمیشہ کے لیے ٹھہر جاتی ہیں۔ کچھ تاریخیں کیلنڈر کے صفحات پر نہیں بلکہ دل کے اوراق پر لکھی جاتی ہیں۔ سال بدلتے رہتے ہیں، موسم آتے جاتے ہیں، زندگی نئے تقاضے لے کر آگے بڑھتی رہتی ہے، مگر وہ ایک دن، وہ ایک لمحہ اور وہ ایک خبر انسان کے وجود کا ایسا حصہ بن جاتی ہے جسے نہ وقت مٹا سکتا ہے اور نہ ہی مصروفیت دھندلا سکتی ہے۔

یکم اگست بھی ایسی ہی ایک تاریخ ہے۔

 

چھ برس بیت چکے ہیں، لیکن یہ دن آج بھی نہ جانے کتنے گھروں میں خاموشی، آنسو اور یادوں کا موسم لے کر آتا ہے۔ خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے جنہوں نے کورونا کی وبا کے دوران اپنے پیاروں کو کھو دیا۔ وہ وبا جس نے صرف لاکھوں جانیں ہی نہیں لیں بلکہ انسان سے اپنے عزیزوں کو آخری بار گلے لگانے، ان کا ہاتھ تھامنے اور ان سے الوداع کہنے کا حق بھی چھین لیا۔

 

آج جب کورونا کی تلخ یادیں تاریخ کا حصہ بنتی جا رہی ہیں، تب بھی ان خاندانوں کے دلوں میں وہ زخم تازہ ہیں جنہوں نے اسپتال کے دروازوں کے باہر کھڑے ہو کر صرف دعائیں مانگیں، فون کی گھنٹی بجنے سے ڈرتے رہے اور ایک خبر نے ان کی پوری دنیا بدل دی۔

 

چند روز قبل معروف شاعر، ادیب اور دانشور  پروفیسر حشمت کمال الہامی کی صاحبزادی صبیحہ کمال نے اپنے والد کی جدائی پر ایک ایسی تحریر لکھی جو محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک بیٹی کے ٹوٹے ہوئے دل کی آواز ہے۔ یہ تحریر پڑھتے ہوئے بار بار محسوس ہوتا ہے کہ بعض دکھ اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ انہیں بیان کرنے کے لیے زبان نہیں، صرف آنسو کافی ہوتے ہیں۔

 

صبیحہ کمال لکھتی ہیں کہ یکم اگست 2020 عیدالاضحیٰ کا دن تھا۔ گھر میں عید کی تیاری تھی، لیکن دل اسپتال کے اس کمرے میں اٹکا ہوا تھا جہاں ان کے والد کورونا کے باعث زیرِ علاج تھے۔ وبا کی سخت پابندیوں نے انہیں اپنے والد سے ملنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ ایک بیٹی اپنے باپ کو دیکھنا چاہتی تھی، ان کا ہاتھ پکڑنا چاہتی تھی، ان کی پیشانی چومنا چاہتی تھی، مگر درمیان میں ایک ایسا وائرس کھڑا تھا جس نے دنیا کے مضبوط ترین رشتوں کو بھی فاصلے میں بدل دیا تھا۔

 

وہ پوری رات اللہ کے حضور سجدہ ریز رہیں۔ دعائیں کرتی رہیں کہ ان کے بابا صحت یاب ہو جائیں۔ شاید ہر بیٹی یہی دعا مانگتی، شاید ہر باپ اپنی بیٹی کی دعا پر یقین رکھتا ہے۔ لیکن بعض اوقات اللہ کی مشیت انسان کی خواہش سے مختلف ہوتی ہے۔

 

پھر صبح ایک فون کال آئی۔

 

خبر ملی کہ بابا کو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

 

یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا، بلکہ امید اور خوف کے درمیان کھنچی ہوئی ایک لکیر تھی۔ دل جیسے کسی انجانے اندیشے سے بھر گیا۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، مگر پھر بھی دل یہی کہتا رہا کہ شاید سب ٹھیک ہو جائے، شاید بابا واپس آ جائیں، شاید یہ آزمائش ختم ہو جائے۔

 

لیکن زندگی میں کچھ "شاید” کبھی حقیقت نہیں بنتے۔

 

جب انہیں والدہ کے گھر جانے کے لیے کہا گیا تو راستے بھر ان کے دل میں امید اور خوف ایک ساتھ سفر کرتے رہے۔ وہ اپنی ایک سالہ بیٹی کو گود میں اٹھائے مسلسل دعائیں کرتی رہیں۔ مگر جیسے ہی گھر کے باہر چند عزیزوں کو خاموشی سے نکلتے دیکھا، انہیں سب کچھ سمجھ آگیا۔

 

اس لمحے ان کے الفاظ نہیں، ان کی خاموشی بولتی ہے۔

 

وہ لکھتی ہیں کہ یوں لگا جیسے آسمان ان پر آ گرا ہو، جیسے پوری دنیا ایک لمحے میں رک گئی ہو۔ وہی گھر جہاں بابا دروازے پر کھڑے مسکرا کر استقبال کیا کرتے تھے، آج خاموش کھڑا تھا۔ وہ آواز، جو ہمیشہ "آ گئی میری بیٹی؟” کہہ کر دل کو سکون دیتی تھی، ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھی۔

 

یہ منظر صرف صبیحہ کمال کا نہیں، بلکہ ان ہزاروں بیٹیوں اور بیٹوں کا ہے جنہوں نے کورونا کے دنوں میں اپنے والدین کو اسی بے بسی کے عالم میں کھو دیا۔

 

کورونا نے انسان کو موت سے زیادہ بے بسی کا احساس دیا۔ پہلے زمانوں میں جب کوئی عزیز دنیا سے رخصت ہوتا تھا تو اہلِ خانہ اس کے پاس ہوتے تھے، آخری دیدار کرتے تھے، ہاتھ پکڑتے تھے، دعائیں دیتے تھے۔ مگر کورونا نے یہ حق بھی چھین لیا۔ کتنے ہی والدین اپنے بچوں کو آخری بار نہ دیکھ سکے اور کتنے ہی بچے اپنے والدین کی آواز دوبارہ سننے کی حسرت لیے رہ گئے۔

 

صبیحہ کمال لکھتی ہیں کہ ایک ہفتے بعد جب ایمبولینس گھر پہنچی اور انہوں نے اپنے بابا کو تابوت میں دیکھا تو دل میں صرف ایک خواہش تھی کہ کاش وہ ایک بار آنکھیں کھول دیں، ایک بار محبت سے بیٹی کہہ دیں۔ لیکن اللہ کے فیصلے کے سامنے ہر خواہش خاموش ہو جاتی ہے۔

 

یہ چند سطریں شاید ہر اس شخص کے دل کی آواز ہیں جس نے کبھی اپنے والد یا والدہ کو کھویا ہو۔ والد صرف ایک فرد نہیں ہوتا، وہ گھر کا سایہ، اولاد کی ہمت، خاندان کی طاقت اور زندگی کا سب سے مضبوط سہارا ہوتا ہے۔ جب یہ سایہ اٹھ جاتا ہے تو انسان عمر بھر خود کو مکمل محسوس نہیں کر پاتا۔

 

شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ والدین کی موجودگی زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ ان کی دعائیں وہ سرمایہ ہیں جو کسی بینک میں جمع نہیں ہوتا، مگر زندگی کے ہر مشکل موڑ پر انسان کو سنبھال لیتا ہے۔

 

آج جب یکم اگست ایک بار پھر ہمارے سامنے ہے تو یہ صرف ایک خاندان کے غم کو یاد کرنے کا دن نہیں، بلکہ ان تمام لوگوں کو یاد کرنے کا موقع بھی ہے جو کورونا کی وبا میں ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے۔ یہ دن ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ محبت کا اظہار کل پر نہیں چھوڑنا چاہیے، کیونکہ زندگی کسی کو مہلت کی ضمانت نہیں دیتی۔

 

صبیحہ کمال کی تحریر پڑھ کر بار بار یہی احساس ہوتا ہے کہ کچھ زخم کبھی نہیں بھرتے۔ وقت ان کے ساتھ جینا ضرور سکھا دیتا ہے، مگر انہیں ختم نہیں کر سکتا۔ وہ زخم پھر یاد نہیں رہتے، بلکہ انسان کی شناخت کا حصہ بن جاتے ہیں۔

 

اللہ تعالیٰ پروفیسر حشمت کمال الہامی پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے، ان کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

 

اور دعا ہے کہ دنیا کے ہر اس بیٹے اور بیٹی کو، جو آج بھی اپنے والد یا والدہ کی جدائی کا دکھ اپنے دل میں لیے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ صبر، سکون اور اپنی رحمت کا سایہ عطا فرمائے۔

🔔

Daily Tarjuman Notifications

تازہ ترین خبریں اور اہم اپڈیٹس فوراً حاصل کریں۔