کراچی: پاکستان کی تعلیمی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پہلی مرتبہ سرکاری اور نجی اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہندو طلبہ کے لیے ہندو مذہبی کتب متعارف کرا دی گئی ہیں۔ اس اقدام کو اقلیتی برادری کے تعلیمی اور مذہبی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں کراچی کے تاریخی این جے وی گورنمنٹ سیکنڈری ہائی اسکول میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی، رکن سندھ اسمبلی مہیش کمار ہاسیجا اور معاذ محبوب نے جماعت سوم سے پنجم تک کے ہندو طلبہ میں ہندو مذہبی کتب تقسیم کیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی خورشیدی نے کہا کہ پاکستان کے قیام کے بعد پہلی بار سرکاری تعلیمی اداروں میں ہندو طلبہ کے لیے باقاعدہ مذہبی نصابی کتب کی تدریس کا آغاز کیا جا رہا ہے، جو ملک میں مذہبی ہم آہنگی، مساوات اور اقلیتوں کے حقوق کے فروغ کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو اپنے مذہب کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہے، اور ہندو مذہبی کتب کی اشاعت اور تدریس اسی آئینی حق کو عملی شکل دینے کی ایک اہم کوشش ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ہندو طلبہ، ان کے والدین اور اساتذہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اقدام دیگر اقلیتی برادریوں کے لیے بھی ایک مثال ثابت ہوگا۔
تقریب کے دوران این جے وی گورنمنٹ سیکنڈری ہائی اسکول کے پرنسپل نے مہمانوں کو اسکول کے مختلف شعبہ جات، کلاس رومز، لائبریری اور دیگر سہولیات کا دورہ بھی کرایا اور تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔
رکن سندھ اسمبلی مہیش کمار ہاسیجا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندو مذہبی کتب کی فراہمی اقلیتی طلبہ کے تعلیمی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برسوں سے ہندو برادری یہ خواہش رکھتی تھی کہ ان کے بچوں کو بھی سرکاری سطح پر اپنے مذہب کی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے، اور آج یہ خواہش حقیقت کا روپ دھار رہی ہے۔
انہوں نے سندھ حکومت، محکمہ تعلیم، ماہرین تعلیم اور نصاب کی تیاری میں شریک تمام افراد کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف اقلیتوں کے آئینی حقوق کے احترام کا مظہر ہے بلکہ معاشرے میں مذہبی رواداری اور باہمی احترام کو بھی فروغ دے گا۔
اس موقع پر رہنماؤں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مستقبل قریب میں مسیحی طلبہ کے لیے بھی ان کے مذہب سے متعلق نصابی کتب متعارف کرائی جائیں گی تاکہ تمام اقلیتی برادریوں کے بچوں کو آئینِ پاکستان کے مطابق اپنے مذہب کی تعلیم حاصل کرنے کے مساوی مواقع میسر آ سکیں۔
مقررین نے اس امر پر بھی زور دیا کہ سندھ نے اس اقدام کے ذریعے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 22، آرٹیکل 25 اور آرٹیکل 36 کے تقاضوں پر عملدرآمد کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ آرٹیکل 22 ہر شہری کو اپنے مذہب کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کا تحفظ فراہم کرتا ہے، آرٹیکل 25 تمام شہریوں کو قانون کی نظر میں برابری کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 36 ریاست کو اقلیتوں کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کا پابند بناتا ہے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق ہندو مذہبی کتب کی تدریس کا آغاز نہ صرف اقلیتی طلبہ کو اپنے مذہبی تشخص سے جوڑے رکھنے میں معاون ثابت ہوگا بلکہ پاکستان میں ایک ایسا تعلیمی ماحول تشکیل دینے میں بھی مددگار ہوگا جہاں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو مساوی احترام اور یکساں تعلیمی مواقع میسر ہوں۔
تقریب کے اختتام پر طلبہ میں ہندو مذہبی کتب تقسیم کی گئیں جبکہ شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں اس اقدام کو ملک کے دیگر تعلیمی اداروں تک بھی توسیع دی جائے گی تاکہ اقلیتوں کے آئینی اور تعلیمی حقوق مزید مؤثر انداز میں یقینی بنائے جا سکیں۔

Leave a Reply