گلگت بلتستان ان دنوں ایک بار پھر شدید بارشوں سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں ہے۔ شنگس کے مقام پر جگلوٹ سکردو روڈ کا رابطہ پل سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے سکردو کا ملک کے دیگر حصوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے جبکہ استور ویلی روڈ بھی مختلف مقامات پر شدید متاثر ہوئی ہے پریشنگ کے مقام پر سڑک کا بڑا حصہ دریا برد ہونے سے آمدورفت معطل ہے۔ یہ واقعات محض موسمی حادثات نہیں بلکہ ایک ایسے چیلنج کی نشاندہی کرتے ہیں جو ہر گزرتے سال کے ساتھ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
گلگت بلتستان دنیا کے ان خطوں میں شمار ہوتا ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات انتہائی تیزی سے ظاہر ہو رہے ہیں حالانکہ اس خطے کا عالمی کاربن اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔گلیشیئرز کا غیر معمولی رفتار سے پگھلنا بے ترتیب بارشیں گلیشیائی جھیلوں کا پھٹنا اور اچانک آنے والے سیلاب اب معمول بنتے جا رہے ہیں اس صورتحال نے نہ صرف انسانی جانوں اور املاک کو خطرات سے دوچار کیا ہے بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی پائیداری پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہر سال مون سون کے دوران تقریباً ایک ہی منظرنامہ سامنے آتا ہے کہیں پل بہہ جاتے ہیں کہیں شاہراہیں بند ہو جاتی ہیں کہیں دیہات دنیا سے کٹ جاتے ہیں اور کہیں ہزاروں سیاح راستوں میں محصور ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد بھاری مشینری حرکت میں آتی ہے ہنگامی بنیادوں پر سڑکیں کھولی جاتی ہیں اور چند ہفتوں بعد معاملات معمول پر آ جاتے ہیں لیکن اگلے سال پھر وہی المیہ دہرایا جاتا ہے سوال یہ ہے کہ اگر خطرات کی نوعیت اور مقامات دونوں معلوم ہیں تو مستقل حل کیوں تلاش نہیں کیا جاتا؟
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گلگت بلتستان کی معیشت کا انحصار سیاحت تجارت اور زمینی مواصلاتی نظام پر ہے جب جگلوٹ سکردو روڈ یا قراقرم ہائی وے متاثر ہوتی ہے تو صرف سفر ہی متاثر نہیں ہوتا بلکہ پورا معاشی نظام دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے اشیائے خورونوش ادویات اور ایندھن کی ترسیل رک جاتی ہے کاروباری سرگرمیاں سست پڑ جاتی ہیں سیاحتی شعبہ نقصان اٹھاتا ہے اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں افراد کی آمدنی متاثر ہوتی ہے ایک پل یا ایک شاہراہ کی بندش درحقیقت پورے خطے کی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اس دور میں روایتی انجینئرنگ سوچ کافی نہیں رہی اب ایسے پل سڑکیں اور حفاظتی ڈھانچے درکار ہیں جو مستقبل کے موسمی خطرات کو سامنے رکھ کر تعمیر کیے جائیں ترقی یافتہ ممالک اپنے انفراسٹرکچر کو موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ بنا رہے ہیں، جبکہ ہمیں بھی ترقیاتی منصوبوں میں موسمیاتی خطرات کو بنیادی عنصر کے طور پر شامل کرنا ہوگا۔
حکومت کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں مشینری پہنچانا اور بحالی کا کام شروع کرنا قابل تحسین ضرور ہے مگر کامیابی کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ سڑک کتنی جلدی کھولی گئی بلکہ یہ ہے کہ آئندہ وہی سڑک دوبارہ اسی طرح متاثر نہ ہو۔ اس مقصد کے لیے مضبوط پل جدید حفاظتی دیواریں دریا اور ندی نالوں کی سائنسی بنیادوں پر نگرانی متبادل شاہراہوں کی تعمیر اور جدید ارلی وارننگ سسٹم ناگزیر ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کو جدید آلات بھاری مشینری تربیت یافتہ عملہ اور ہنگامی وسائل فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ مقامی کمیونٹیز کو قدرتی آفات سے نمٹنے کی تربیت دینا اور عوام میں احتیاطی شعور پیدا کرنا بھی حکومتی پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے۔
عوام اور سیاح بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں خراب موسم میں غیر ضروری سفر سے گریز انتظامیہ کی ہدایات پر عمل اور سفر سے قبل شاہراہوں کی صورتحال سے آگاہی نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی جانوں کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے۔
گلگت بلتستان پاکستان کا قدرتی حسن آبی وسائل اور سیاحتی سرمایہ ہے۔ اس خطے کو موسمیاتی تبدیلی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور گلگت بلتستان حکومتیں مشترکہ طور پر ایک جامع کلائمیٹ ریزیلینٹ انفراسٹرکچر پالیسی مرتب کریں، جس کے تحت شاہراہوں پلوں اور حفاظتی ڈھانچوں کو مستقبل کے موسمی خطرات کے مطابق تعمیر کیا جائے اگر آج یہ فیصلے نہ کیے گئے تو ہر مون سون کے بعد یہی تباہی یہی نقصانات اور یہی سرکاری اعلانات ہماری قسمت بنے رہیں گے۔
قدرتی آفات کو روکنا انسان کے اختیار میں نہیں لیکن ان کے سامنے بے بس رہنا بھی کوئی تقدیر نہیں۔ دانشمندانہ منصوبہ بندی مضبوط انفراسٹرکچر مؤثر ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور عوامی تعاون ہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر گلگت بلتستان کو محفوظ، مستحکم اور پائیدار مستقبل دیا جا سکتا ہے۔
