بروکلین، نیویارک: پاکستانی امریکن کمیونٹی کی ایک ممتاز تنظیم اے پیک (APEC) کے زیرِ اہتمام بروکلین کے علاقے کونی آئی لینڈ، نیویارک میں ایک خصوصی سیرت کانفرنس، شہادت کانفرنس اور عقیدہ ختمِ نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستانی اور مسلم کمیونٹی کی ممتاز شخصیات، علما کرام، خواتین، نوجوانوں، بچوں اور نعت خواں حضرات سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
کانفرنس کا بنیادی مقصد حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی سیرتِ طیبہ، آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ، اخلاقِ کریمہ اور تعلیمات کو اجاگر کرنا اور نئی نسل کو آپ ﷺ کی زندگی اور تعلیمات سے روشناس کرانا تھا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمان اپنی عملی زندگی میں حضور اکرم ﷺ کے اخلاق و کردار کو اپنا نمونہ بنائیں اور نوجوان نسل کو بھی سیرت النبی ﷺ سے زیادہ سے زیادہ آگاہ کیا جائے۔
تقریب میں عقیدہ ختمِ نبوت کی اہمیت پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی اور مقررین نے کہا کہ امریکہ میں پروان چڑھنے والی نئی نسل کو اپنے بنیادی اسلامی عقائد سے آگاہ کرنا والدین، علما، مساجد اور کمیونٹی رہنماؤں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
کانفرنس کے مہمانِ خصوصی مولانا تصور گیلانی تھے، جنہوں نے نہایت پُرجوش اور مدلل خطاب کیا۔ انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس، قرآن کریم کی اہمیت اور آپ ﷺ کے اعلیٰ اخلاق و کردار کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
تقریب میں شمس الزمان، عمر فاروق، ناصر علی، حافظ سہیل رحمٰس، بشریٰ، راحیلہ، فردوس، گلناز، احمد فاروق مرزا، ارشد حسین، توقیر الحق اور محمد ثقلین سمیت دیگر مقررین اور نعت خواں حضرات نے بھی شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
عقیدہ ختمِ نبوت پر خصوصی گفتگو
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فاروق مرزا نے کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ کی عزت، ناموس اور حرمت ہر مسلمان کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی کے اندر مذہبی معاملات پر ذمہ دارانہ انداز میں آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے اور علما کرام کو چاہیے کہ وہ مساجد، جمعہ کے خطبات اور دینی پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں کو عقیدہ ختمِ نبوت کے بارے میں آسان اور واضح انداز میں تعلیم دیں۔
فاروق مرزا نے کہا کہ امریکہ میں رہنے والی مسلم کمیونٹی خصوصاً والدین کو اپنی نئی نسل کی دینی تربیت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ بچے اپنے مذہبی عقائد اور اسلامی شناخت سے واقف رہیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو سیرت النبی ﷺ، اسلامی تعلیمات اور عقیدہ ختمِ نبوت کی اہمیت سے مسلسل آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔
فاروق مرزا نے کانفرنس کے منتظمین، خصوصاً توقیر الحق، ان کی ٹیم، خاندان اور دوستوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسی محافل کا انعقاد جاری رہنا چاہیے جہاں حضور نبی کریم ﷺ کا ذکر ہو اور نئی نسل کو دین و اخلاق کی تعلیم دی جائے۔
توقیر الحق کا نئی نسل کی دینی تربیت پر زور
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے توقیر الحق نے بتایا کہ ان کی تنظیم گزشتہ کئی برسوں سے اس نوعیت کی مذہبی اور دینی محافل کا انعقاد کرتی آ رہی ہے اور مستقبل میں بھی نیویارک کے مختلف علاقوں اور بوروز میں ایسی تقریبات منعقد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس پروگرام میں شہادت کانفرنس، سیرت النبی ﷺ اور عقیدہ ختمِ نبوت جیسے اہم موضوعات کو شامل کیا گیا ہے۔
توقیر الحق نے کہا کہ عقیدہ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے اور مسلمانوں کا ایمان اس یقین سے وابستہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔
انہوں نے بالخصوص خواتین اور ماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں پیدا ہونے والی اور پروان چڑھنے والی مسلم نسل کی دینی تربیت میں والدین کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں بچوں کو اردگرد کے ماحول سے دینی معلومات حاصل ہوتی رہتی ہیں، لیکن امریکہ جیسے معاشرے میں والدین اور کمیونٹی رہنماؤں کو بچوں کی دینی تعلیم کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو اسلامی عقائد، سیرت النبی ﷺ اور مذہبی شناخت کے بارے میں مناسب انداز میں تعلیم دیں تاکہ نئی نسل اپنے دین سے مضبوطی کے ساتھ جڑی رہے۔
توقیر الحق نے کہا کہ والدین، علما کرام، کمیونٹی رہنماؤں اور مساجد کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو دینی تعلیم اور آگاہی فراہم کریں اور انہیں اپنے مذہبی عقائد سے روشناس کرائیں۔
مولانا تصور گیلانی کا پُرجوش خطاب
مہمانِ خصوصی مولانا تصور گیلانی نے اپنے خطاب میں حضور نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس اور سیرتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے قرآن کریم کی اہمیت، رسول اکرم ﷺ کے اعلیٰ اخلاق، آپ ﷺ کی تعلیمات اور امت کے لیے آپ ﷺ کی زندگی کو بہترین نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو اپنی زندگی میں نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنانا چاہیے۔
مولانا تصور گیلانی نے نعتیہ اشعار بھی پیش کیے اور اہل بیت اطہار کی عظمت و فضیلت، واقعہ کربلا اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے حق و صداقت کے پیغام کو اجاگر کیا۔
ان کے خطاب کے دوران شرکا نے انتہائی عقیدت و محبت کا اظہار کیا اور محفل کا ماحول روحانی کیفیت سے بھر گیا۔
خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت
کانفرنس میں خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ایک خاتون مقرر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کوئی باقاعدہ مقرر یا عالمہ نہیں ہیں بلکہ حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں اپنے دل کی باتیں بیان کرنا چاہتی ہیں۔
انہوں نے سیرت النبی ﷺ اور طبِ نبوی کے موضوع پر گفتگو کی اور کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی زندگی، آپ ﷺ کے اخلاق، عادات، گفتگو، رہن سہن اور طرزِ زندگی مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ سیرتِ طیبہ میں حضور اکرم ﷺ کی زندگی، عادات، اخلاق اور کردار کے مختلف پہلو شامل ہیں، جبکہ احادیث مبارکہ آپ ﷺ کے اقوال و اعمال کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
خاتون مقرر نے کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ ﷺ نے انسانیت کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے، اخلاق و کردار کی تعلیم دینے اور انسانوں کو نیکی و بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے کا عظیم فریضہ انجام دیا۔
کمیونٹی میں ایسی محافل جاری رکھنے کے عزم کا اظہار
کانفرنس کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستانی امریکن اور مسلم کمیونٹی میں اس نوعیت کی مذہبی، تعلیمی اور اصلاحی محافل کا انعقاد مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔
مقررین نے کہا کہ نئی نسل کی دینی تربیت کے لیے والدین، علما کرام، مساجد، کمیونٹی تنظیموں اور رہنماؤں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ خاص طور پر نوجوانوں کو سیرت النبی ﷺ، اسلامی تعلیمات اور بنیادی اسلامی عقائد کے بارے میں مسلسل آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
تقریب میں نعت خوانی، مذہبی تقاریر اور دعاؤں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ شرکا نے کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ایسی محافل کے تسلسل کی خواہش کا اظہار کیا۔
یہ کانفرنس مجموعی طور پر سیرت النبی ﷺ، اسلامی تعلیمات، دینی آگاہی اور کمیونٹی کے اندر نئی نسل کی تربیت کے حوالے سے ایک اہم اجتماع ثابت ہوئی، جس میں مقررین نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت و کردار کو اپنی زندگی کے لیے بہترین نمونہ بنائیں اور آنے والی نسلوں کو بھی آپ ﷺ کی تعلیمات سے روشناس کرائیں۔

Leave a Reply