خیبرپختونخوا میں بارشوں نے تباہی مچا دی، 24 گھنٹوں میں 12 افراد جاں بحق، مزید بارشوں کا الرٹ

پشاور: خیبرپختونخوا میں جاری مون سون بارشوں نے کئی اضلاع میں معمولاتِ زندگی متاثر کر دیے ہیں۔ شدید بارش اور فلیش فلڈ کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 12 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 14 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کے مطابق جاں بحق افراد میں 6 مرد، 5 بچے اور ایک خاتون شامل ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں 8 مرد، 2 خواتین اور 5 بچے شامل ہیں جنہیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

بارشوں سے صرف انسانی جانوں کا ہی نقصان نہیں ہوا بلکہ متعدد رہائشی مکانات بھی متاثر ہوئے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق 14 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں ایک مکان مکمل طور پر منہدم ہوگیا جبکہ 13 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پشاور، ضلع خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، لوئر چترال، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تورغر اور کرم وہ علاقے ہیں جہاں جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کو متاثرہ خاندانوں تک فوری امداد پہنچانے اور ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

ادارے کے مطابق اس وقت بڑے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، تاہم آئندہ چند روز کے دوران مزید بارشوں کے پیش نظر صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق صوبے میں **23 جولائی تک وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے**۔

حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ پہاڑی علاقوں، برساتی نالوں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ کرنے سے گریز کریں، جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات کے پیش نظر غیر ضروری سفر مؤخر کر دیا جائے۔

پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا امداد کی ضرورت پیش آنے پر ادارے کی **ہیلپ لائن 1700** پر فوری رابطہ کریں۔

 اہم نکات

 گزشتہ 24 گھنٹوں میں 12 افراد جاں بحق
14 افراد زخمی، متعدد اسپتالوں میں زیر علاج
14 مکانات متاثر، ایک مکمل تباہ
10 اضلاع میں جانی و مالی نقصان رپورٹ
23 جولائی تک مزید بارشوں کی پیش گوئی
شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت

 

یہ انداز زیادہ فطری، روایتی نیوز روم کی تحریر سے قریب اور صحافتی اصولوں کے مطابق ہے، جبکہ تمام حقائق کو ان کے ماخذ (PDMA) سے منسوب بھی کرتا ہے۔

خبر شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *