چہلمِ امام حسینؑ ایثار صبر اور حق کی لازوال داستان !

اسلامی تاریخ میں چہلمِ حضرت امام حسین علیہ السلام محض ایک مذہبی دن نہیں بلکہ حق عدل صبر استقامت اور انسانی وقار کی عظیم یادگار ہے ہر سال 20 صفر کو دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان نواسۂ رسول حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اس دن کربلا میں لاکھوں بلکہ کروڑوں زائرین جمع ہو کر اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ ظلم جبر اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا ہی امام حسینؑ کے پیغام کی حقیقی پیروی ہے۔

 

واقعۂ کربلا اسلامی تاریخ کا وہ باب ہے جس نے حق اور باطل کے درمیان واضح فرق قائم کر دیا۔ 10 محرم 61 ہجری کو حضرت امام حسینؑ نے اپنے بہتر جانثار ساتھیوں اور اہلِ بیت کے ہمراہ دینِ اسلام کی سربلندی عدل و انصاف کے قیام اور باطل قوتوں کے سامنے سر نہ جھکانے کی ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ رہے گی امام حسینؑ نے اقتدار یا دنیاوی مفاد کے لیے نہیں بلکہ اسلامی اقدار انسانی آزادی اور حق کی حفاظت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

 

چہلم کی روایت اسلامی تاریخ میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے روایت کے مطابق اس موقع پر حضرت امام حسینؑ کے اہلِ خانہ اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کربلا پہنچ کر شہداء کی قبور کی زیارت کی اسی طرح حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ کو بھی اولین زائرِ امام حسینؑ ہونے کا اعزاز حاصل ہے یہی روایت وقت کے ساتھ دنیا کے سب سے بڑے روحانی اور پرامن اجتماعات میں تبدیل ہو چکی ہے۔
آج عراق میں نجف اشرف سے کربلا تک پیدل سفر جسے "مشیِ اربعین” کہا جاتا ہے ایثار محبت اخوت اور خدمتِ انسانیت کی بے مثال علامت بن چکا ہے اس سفر میں مختلف ممالک زبانوں اور مسالک سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد شریک ہوتے ہیں۔ راستے بھر مقامی لوگ زائرین کی خدمت کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں اور کھانے رہائش طبی سہولیات اور دیگر ضروریات بلا معاوضہ فراہم کرتے ہیں یہ منظر دنیا کے سامنے اسلامی اخوت اور انسان دوستی کی ایک منفرد مثال پیش کرتا ہے۔

 

چہلمِ امام حسینؑ کا پیغام صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے امام حسینؑ نے سکھایا کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا ظلم کو تقویت دیتا ہے جبکہ حق کے لیے قربانی دینا تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ مختلف مذاہب اور اقوام سے تعلق رکھنے والے مفکرین اور دانشور بھی امام حسینؑ کی جدوجہد کو انسانی آزادی انصاف اور اخلاقی جرات کی علامت قرار دیتے ہیں۔

 

پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں چہلم کے موقع پر مجالس جلوس دعائیہ اجتماعات سبیلوں نیاز اور مشی کا اہتمام کیا جاتا ہے حکومتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کرتے ہیں جبکہ عوام بھی مذہبی ہم آہنگی نظم و ضبط اور باہمی احترام کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

 

گلگت بلتستان میں بھی چہلمِ امام حسینؑ نہایت عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے مختلف اضلاع سے عزادار پیدل اربعین واک اور قافلوں کی صورت میں گلگت سمیت مختلف مقامات کا رخ کرتے ہیں۔ راستے میں مقامی لوگ زائرین کی خدمت کرتے ہیں اور محبت بھائی چارے اور رواداری کی اعلیٰ مثالیں قائم کرتے ہیں یہ اجتماعات نہ صرف مذہبی وابستگی کا اظہار ہیں بلکہ سماجی اتحاد اور باہمی تعاون کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

 

آج کے دور میں جب دنیا نفرت تشدد ناانصافی اور اخلاقی بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے چہلمِ امام حسینؑ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امن انصاف سچائی برداشت اور انسانی عزت ہی ایک مضبوط اور مہذب معاشرے کی بنیاد ہیں امام حسینؑ کی قربانی یہ پیغام دیتی ہے کہ اصولوں پر قائم رہنے والے افراد وقتی طور پر مشکلات کا سامنا ضرور کرتے ہیں مگر تاریخ ہمیشہ انہیں عزت اور احترام کے ساتھ یاد رکھتی ہے۔
چہلمِ امام حسینؑ ہمیں اپنے کردار معاشرے اور اجتماعی رویوں کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہے۔ اگر ہم امام حسینؑ کے پیغامِ حق عدل دیانت صبر اور خدمتِ خلق کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ایک پرامن، منصفانہ اور باوقار معاشرے کی تشکیل ممکن ہے یہی چہلمِ امام حسینؑ کا حقیقی پیغام اور واقعۂ کربلا کا ابدی درس ہے

🔔

Daily Tarjuman Notifications

تازہ ترین خبریں اور اہم اپڈیٹس فوراً حاصل کریں۔