نیویارک میں پاکستان ڈے اور بزنس نیٹ ورکنگ ایونٹ: پاک امریکہ تعلقات، سرمایہ کاری اور ثقافتی رنگوں کا بھرپور مظاہرہ

نیویارک: صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم اور فورتھ پلر کے زیر اہتمام نیویارک میں شاندار پاکستان ڈے اور بزنس نیٹ ورکنگ ایونٹ کا انعقاد کیا گیا। اس باوقار تقریب میں مختلفمکتوب فکر کی اہم شخصیات، غیر ملکی چیمبرز کے نمائندگان اور کمیونٹی نے بھرپور شرکت کی۔

 

پروگرام میں اوورسیز گلوبل فاؤنڈیشن، ترکش چیمبر آف کامرس، کورین چیمبر آف کامرس، بنگالی چیمبر آف کامرس اور ڈاکٹروں کی تنظیم "اپنا” (APPNA) کے صدر ڈاکٹر بابر راؤ نے خصوصی شرکت کی۔ اس کے علاوہ نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل عامر اتوزی، ناسو کاؤنٹی کے چیف ایگزیکٹو کے ایڈوائزر چوہدری اکرم، اسسٹنٹ کمشنر ہیومن رائٹس ناسو کاؤنٹی، پاکستان کے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ منسٹر عدنان محمود، اور پاکستان سے خصوصی طور پر تشریف لانے والے چیئرمین کوآرڈینیشن، یو ایس بزنس کونسل کے چیئرمین اور حافظ آباد چیمبر آف کامرس کے صدر سہیل ملک بھی اس تقریب کا حصہ بنے۔

 

پاکستان ڈے کی تقریبات اور ملی نغمے

 

پروگرام کا پہلا مرحلہ پاکستان ڈے کا کیک کاٹنے کی پروقار تقریب پر مشتمل تھا। اس دوران کینیڈا سے آئی ہوئی نامور فنکارہ و میوزک ماسٹر مائی صاحبہ نے "دل دل پاکستان” گا کر سماں باندھ دیا، اور تمام شرکاء نے مل کر ملی نغمے پر قومی جذبے کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا کیک کاٹا۔ تقریب میں کینیڈا ہی سے آئی ہوئی ماشہ خان نے بھی خوبصورت ملی نغمے گا کر ماحول کو گرما دیا۔

 

افواجِ پاکستان اور شہداء کو خراجِ تحسین

تقریب کے دوران واضح پیغام دیا گیا کہ قوم افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان شہداء کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے پاکستان اور اس کے عوام کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ اس موقع پر سہیل ملک نے اپنے خطاب میں آرمی جنرل عاصم منیر کے کردار اور علاقائی سطح پر پاکستان کے ثالثی کے کردار کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے پاکستانی امریکنز پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کاروبار کریں اور سرمایہ کاری لائیں کیونکہ پاکستان سیاحت کے لیے ایک بہترین مقام (Best Tourism Destination) ہے۔ انہوں نے فورتھ پلر تنظیم اور خاص طور پر فاروق مرزا کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا۔

 

مقررین کے خیالات اور تجاویز

"اپنا” کے صدر ڈاکٹر بابر راؤ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس قسم کے پروگرامز جب کمیونٹی اور میڈیا میں ہوتے ہیں اور پاکستان کا نام لیا جاتا ہے تو انتہائی خوشی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے لیے باعثِ افتخار ہے کہ ایسے پروگرام میں خواتین، نوجوان اور بچے پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔

 

قونصل جنرل عامر اتوزی نے کہا کہ فورتھ پلر تنظیم کا یہ ایک انتہائی احسن اقدام ہے کہ وہ نہ صرف پاکستان کا درست بیانیہ پیش کر رہے ہیں بلکہ اکانومی، ٹریڈ اور انویسٹمنٹ کے میدان میں بھی اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

 

ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ منسٹر عدنان محمود نے اسروگرام کو ایک روایتی تقریب سے ہٹ کر انتہائی خاص قرار دیا جس میں امریکی اور بین الاقوامی بزنس چیمبرز نے شرکت کی۔ انہوں نے کورین چیمبر آف کامرس اور اس کے صدر کا بالخصوص شکریہ ادا کیا۔

 

کورین چیمبر آف کامرس کا پاکستان کا دورہ اور ایم او یو کا اعلان

پروگرام کی یہ بات انتہائی اہم تھی کہ کورین چیمبر آف کامرس کے پورے وفد نے اس میں شرکت کی۔ انہوں نے واضح پیغام دیا کہ وہ نہ صرف پاکستان کے ساتھ کاروبار کریں گے بلکہ بہت جلد ان کا ایک وفد پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ وہاں بزنس کے نئے مواقع تلاش کیے جا सकें اور انویسٹمنٹ کی جائے۔ انہوں نے فاروق مرزا کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں شیلڈ بھی پیش کی اور اعلان کیا کہ وہ جلد "فورتھ پلر میڈیا واچ” کے ساتھ ایک اہم ایم او یو (MoU) سائن کریں گے، تاکہ میڈیا پاکستان اور کوریا کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے ہوئے ثالثی کرے اور بزنس کو آگے بڑھائے۔

 

ایوارڈز اور ثقافتی نمائندگی

پروگرام کا ایک اہم ترین حصہ مہمانوں اور کامیاب بزنس مینوں کو فورتھ پلر اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کی طرف سے انعامات، میڈلز اور شیلڈز سے نوازنا تھا۔ تقریب میں بوٹا نامی شخص، جو روایتی طور پر ڈھول بجا کر پاکستان کا نام روشن کرتا ہے اور اپنے منفرد روایتی لباس کی وجہ سے پاکستان کا ایک خوبصورت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے، کو ایف پی سی سی آئی کی طرف سے خصوصی طور پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

 

تنظیم کے مقاصد اور عزم

تقریب میں پاسز (PASHA)، ڈاکٹر سلمہ اور فورتھ پلر کی صدر علی شاہ باری نے بھی شرکت کی۔ علی شاہ باری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کی تنظیم پاکستان کی روایات اور ثقافت کو اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے عہد کیا کہ ایسے مفید پروگرام کمیونٹی کے لیے مسلسل پیش کیے جاتے رہیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم قائد اعظم اور علامہ اقبال کے افکار کو ہمیشہ سامنے رکھیں، اور سوال اٹھایا کہ بحیثیت قوم ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں اور ہم ملک کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ انہوں نے اس کا خود جواب دیتے ہوئے کہا کہ "یقینِ محکم، تنظیم اور اتحاد” ہمارا بنیادی منصب ہونا چاہیے۔

 

ڈائریکٹر انٹرنیشنل ٹریڈ نوری صبا نے کہا کہ وہ بحیثیت فیشن ڈیزائنر ایک کامیاب مقام حاصل کرنا چاہتی ہیں، اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فاروق مرزا کی سربراہی میں خواتین کاروباری میدان میں آگے آرہی ہیں اور پاکستان کے ساتھ تجارت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس موقع پر ظہیر مہر، شکیل احمد، حضرت ڈاک، چوہدری اکرم اور بنگالی چیمبر آف کامرس کے صدر نے بھی پاکستان کے ساتھ بزنس اور ثقافت کا اشتراک کرنے کے اپنے عزم کا بھرپور اظہار کیا۔

🔔

Daily Tarjuman Notifications

تازہ ترین خبریں اور اہم اپڈیٹس فوراً حاصل کریں۔